شہید علی خامنہ ای کی تہران میں تاریخی نماز جنازہ : تین بیٹوں کی شرکت، سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای منظر عام پر نہ آئے، 9 جولائی کو مشہد میں تدفین، امام کا مشن جاری رکھیں گے : ایرانی صدر
نمازِ جنازہ آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی ،مصلیٰ امام خمینی کھچا کھچ بھر گیا ، لاکھوں افراد شریک ،تقریباً100ممالک کے سرکاری وفود بھی موجودتھے ،رقت آمیز مناظر صاحبزادی ،داماد ،بہواور نواسی کے جنازے بھی پڑھائے گئے ، شہید امام کے افکار و اہداف کی تکمیل کرینگے ،اسرائیلی کارروائیوں پر عالمی خاموشی انتہائی افسوسناک :مسعودپزشکیان
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) اسرائیلی اور امریکی حملے میں شہید ہونے والے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے 4افراد کی نمازِ جنازہ گزشتہ روز تہران کے مصلیٰ امام خمینی میں ادا کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ آیت اللہ جعفر سبحانی کی اقتدا میں ادا کی گئی، جس میں صدر مسعود پزشکیان،سپیکر محمد باقر قالیباف، اعلیٰ عسکری و حکومتی شخصیات، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز، شہید رہنما کے تین بیٹوں مصطفی، میثم اور مسعود خامنہ ای سمیت لاکھوں سوگواروں نے شرکت کی ،تاہم ان کے چوتھے بیٹے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای منظر عام پرنہیں آئے ۔نمازِ جنازہ کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ۔
مصلیٰ امام خمینی اور اس کے اطراف کا علاقہ عوام سے کھچا کھچ بھر گیا جبکہ گنجائش مکمل ہونے کے بعد ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نمازِ جنازہ ادا کی۔ اس موقع پر سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے تھے اور شہری رات ہی سے جنازہ گاہ پہنچنا شروع ہو گئے تھے ۔ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق نمازِ جنازہ تین مراحل میں ادا کی گئی۔ پہلے مرحلے میں آیت اللہ علی خامنہ ای، دوسرے مرحلے میں ان کی صاحبزادی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور بہو زہرا حداد عادل، جبکہ تیسرے مرحلے میں کمسن نواسی زہرا محمدی کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی قم منتقل کیا جائے گا، جہاں دوسری نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، اس کے بعد مختلف شہروں میں عوام کو آخری دیدار کا موقع دیا جائے گا جبکہ 9 جولائی کو مشہد میں روضئہ امام علی رضا کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
سوگ کی تقریبات میں پاکستان سمیت تقریبا ً100ممالک کے سرکاری، سفارتی اور مذہبی وفود جنازے میں شریک ہوئے۔ دوسری جانب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ، خصوصاً نیویارک ٹائمز نے نامعلوم ایرانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سکیورٹی خدشات کے باعث نمازِ جنازہ میں شریک نہیں ہوئے ۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی سکیورٹی اداروں کو خدشہ تھا کہ ان کی عوامی موجودگی سے اسرائیل انہیں نشانہ بنانے یا ان کے مقام کا سراغ لگانے کی کوشش کر سکتا ہے ۔ تاہم ان دعووں کی ایرانی حکومت یا مجتبیٰ خامنہ ای کے دفتر کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر ایرانی سیاسی حلقوں میں اختلافِ رائے موجود ہے ۔ سخت گیر حلقے مذاکرات کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ صدر مسعود پزشکیان اور سپیکر محمد باقر قالیباف سمیت اعتدال پسند رہنما معاشی مشکلات کے پیشِ نظر سفارتی عمل جاری رکھنے کے حامی ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے شہید رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عوام سے کیا گیا ہر وعدہ پورا کریں گے ۔ صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ شہید رہبرِ اعلیٰ نے پوری زندگی عوام کی خدمت، قومی خودمختاری اور اسلامی جمہوریہ ایران کے استحکام کیلئے وقف کئے رکھی،شہداء کی قربانیاں ایرانی قوم کیلئے مشعلِ راہ ہیں اور حکومت ان کے مشن کو آگے بڑھانے کیلئے پرعزم ہے ، شہید امام کے افکار و اہداف کی تکمیل کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے ۔ایرانی صدر نے اسرائیل کی جانب سے خطے کے مختلف ممالک میں کی جانے والی کارروائیوں پر عالمی برادری کی خاموشی پر شدید تنقید کی۔ایرانی صدر نے کہا کہ عالمی برادری اسرائیل کو خطے کے متعدد ممالک پر حملوں اور مشرق وسطٰی میں عدم استحکام پیدا کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے ،اسرائیلی کارروائیوں پر عالمی خاموشی انتہائی افسوسناک ہے ۔
مسعود پزشکیان کااپنے بیان میں کہنا تھا کہ ایران کی نئی قیادت پر اسلامی دنیا کے اتحاد کو مضبوط بنانے اور مسلم ممالک کے درمیان یکجہتی کو فروغ دینے کی بھاری ذمہ داری ہے ۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران خطے میں تعاون، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ تقریباً100ممالک کے نمائندوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی الوداعی تقریبات میں شرکت کرکے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ایکس پر اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ یہ تاریخی یادگاری تقریب دوست عرب ممالک کے نمائندوں کی شرکت سے مزید اہمیت اختیار کر گئی، یہ موقع خطے کے ممالک کے مشترکہ تعلقات کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔