آزاد کشمیر : کالعدم ایکشن کمیٹی کی کال مسترد، معمولات زندگی بحال، تاجر رہنمائوں پر تشدد، 4 اہلکار اغوا
کاروباری مراکز، سرکاری و نجی دفاتر معمول کے مطابق کھلے رہے ، امن کیساتھ کھڑے ہیں:شہری،25 نقاب پوش ناصر اور حسام پر تشددکے بعدسڑک پرپھینک کر فرار دھرنے ، ہڑتال کی کال میں ناکامی پر ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے انتشار پھیلانے کیلئے کانسٹیبل شاہد ، صغیر، اشتیاق اور ذیشان کو ڈیوٹی سے واپس جاتے اغوا کرلیا:پولیس حکام
مظفر آباد (دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک )آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں نے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی 5 جولائی کی ہڑتال کی کال کو مسترد کر دیا، کشمیر بھر میں روزمرہ معمولات زندگی بحال رہے ، شہریوں نے ہڑتال کو مکمل طور پر رد کر دیا ،پولیس حکام کے مطابق ہڑتال اور دھرنے میں ناکامی پر ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے تاجر رہنماؤں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور4 اہلکاروں کو ڈیوٹی سے واپس جاتے ہوئے اغوا کرلیا ۔شہریوں کا کہنا تھا کہ ہڑتال کی کال کالعدم ایکشن کمیٹی کی پرتشدد کارروائیوں اور انتشار پھیلانے کی مذموم کوشش ہے ۔عوام جھوٹی افواہوں پر دھیان نہ دیں اور اپنے کاروباری معاملات معمول کے مطابق چلائیں۔
ریاست بھر میں تمام کاروباری مراکز، سرکاری و نجی دفاتراور بازار معمول کے مطابق کھلے رہے ، کالعدم ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں سے ریاست کو پہلے ہی کافی معاشی اور سماجی نقصان پہنچ چکا، عوام اب مزید کسی انتشار یا بدامنی کا حصہ بننے کیلئے تیار نہیں،عوام نے واضح کر دیا کہ وہ انتشار اور گمراہ کن پراپیگنڈے کا حصہ بننے کے بجائے امن، استحکام ترقی کے ساتھ کھڑے ہیں۔حکام کے مطابق کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 20 سے 25 نقاب پوش افراد کا انجمن تاجران ارجہ کے سیکرٹری جنرل سردار ناصر ارباب اور ان کے کزن حسام پر 6 گھنٹے تک وحشیانہ تشدد۔ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے شدید فائرنگ بھی کی گئی تاہم فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ملزم 6 گھنٹے سے زائد تشدد کے بعد دونوں زخمیوں کو نیم مردہ حالت میں سڑک کنارے پھینک کر فرار ہو گئے ۔ گزشتہ روز جنڈالہ کراس کے قریب کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے درخت کاٹ کر مین سڑک بند کی گئی تھی جس کی وجہ سے ایک ایمبولینس جس میں ڈیڈ باڈی تھی پھنس گئی۔
انجمن تاجران ارجہ کے سیکرٹری جنرل سردار ناصر ارباب چند نوجوانوں کے ہمراہ ایمبولینس کے لیے راستہ بنانے پہنچے ہی تھے کہ کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 20 سے 25 افراد نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور سردار ناصر ارباب اور ان کے کزن حسام کو گن پوائنٹ پر روک لیا۔ تشدد کرتے ہوئے انہیں راولاکوٹ کی طرف سڑک پر گھسیٹتے ہوئے ہلاں بازار تک لے گئے ۔ہلاں بازار سے انہیں ایک ہائی ایس گاڑی جو پہلے سے وہاں موجود تھی میں ڈال کر پانیولہ لے جایا گیا جہاں صبح 6 بجے تک تشدد کرتے رہے ۔ ناصر ارباب اور حسام ان افراد کی منت سماجت کرتے رہے لیکن کالعدم تنظیم کے یہ تشدد پسند افراد اس بات پر مصر رہے کہ تم انتظامیہ کو دیگیں پکا کر دیتے ہو۔ سردار ناصر ارباب شدید تشدد کے باعث بے ہوش ہو گئے جنہیں بعد ازاں نیم مردہ حالت میں ہلاں بازار کے قریب سڑک کنارے پھینک کر یہ افراد فرار ہو گئے ۔
واقعہ کے بعد تاجر برادری اور علاقہ مکینوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ ارجہ کی تاجر برادری جلد پریس کانفرنس کے ذریعے نہ صرف کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کرے گی بلکہ کالعدم تنظیم کے خلاف آئندہ کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کرے گی۔ دوسری جانب پولیس افسر کے بقول کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے راولاکوٹ میں آزاد کشمیر پولیس کے 4 اہلکاروں کو اغوا کر لیا ہے ،سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاہد شفیق، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل صغیر، کانسٹیبل اشتیاق اور کانسٹیبل ذیشان اسحاق کوڈیوٹی سے گھر جاتے ہوئے اغوا کیاگیا، مغوی اہلکار کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر کی حراست میں ہیں،سرغنہ خواجہ مہران اور اسکے کارندے راولاکوٹ کا ماحول خراب کرنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہے ۔راولاکوٹ دھرنے میں عوام کی عدم دلچسپی پر کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے ، دھرنے کی واضح ناکامی کے بعد شرپسند عناصر اب قانون کو ہاتھ میں لینے اور انتشار پھیلانے پراتر آئے ہیں۔