بدخشاں کے معدنی وسائل کی تقسیم پراختلاف ،طالبان لڑپڑے

بدخشاں کے معدنی وسائل کی تقسیم پراختلاف ،طالبان لڑپڑے

منحرف کمانڈر جمعہ خان کا طالبان کے سامنے کسی صورت سرنڈر نہ کرنے کا اعلان ملا ہبت اللہ نے باغی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دے دیا

کابل،اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں معدنی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے شدت اختیار کر لی ہے ، جہاں افغان طالبان اور منحرف مقامی طالبان کمانڈر جمعہ خان فاتح کے درمیان کشیدگی کھلی مسلح جھڑپوں میں تبدیل ہو گئی ۔رپورٹس کے مطابق طالبان قیادت اور کمانڈر جمعہ خان فاتح کے درمیان معدنی وسائل کی تقسیم پر اختلافات کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی۔ طالبان کے امیر ملا ہبت اللہ نے جمعہ خان فاتح کو باغی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دے دیا ہے ۔افغان میڈیا کے مطابق طالبان کی سپیشل فورسز اور تقریباً 50 عسکری گاڑیوں پر مشتمل بھاری نفری بدخشاں کے ضلع شغنان میں تعینات کر دی گئی ہے جبکہ علاقے میں ڈرونز کے ذریعے فضائی نگرانی اور ہیلی کاپٹروں کی مسلسل پروازیں جاری ہیں۔ادھر منحرف کمانڈر جمعہ خان فاتح نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی فوجی کارروائی کا بھرپور مقابلہ کریں گے ۔ اطلاعات کے مطابق ضلع درویز بدستور جمعہ خان فاتح کے کنٹرول میں ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں