حوثیوں کا ابھرتا چیلنج ، امریکا کو دو محاذوں کا سامنا
امریکا کو جنگی جہاز خلیج سے ہٹا کر یمن کے قریب بھیجنے پڑیں گے
واشنگٹن (رائٹرز)موجودہ اور سابق امریکی حکام کے مطابق، بحرِ احمر میں سعودی عرب پر بحری ناکا بندی عائد کرنے کی حوثی دھمکی ایران کے ساتھ جاری جنگ کا دائرہ کار نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہے اور پہلے سے متعدد محاذوں پر مصروف امریکی فوج پر مزید شدید دباؤ ڈال سکتی ہے ۔سعودی عرب جہاں امریکی افواج بھی موجود ہیں، نے ابھی تک واشنگٹن سے ملٹری امداد کی درخواست نہیں کی ۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اشارہ دیا کہ حوثیوں کی جانب سے عالمی تجارت کے اہم راستے بحرِ احمر میں جہاز رانی کو روکنے کی کوئی بھی کوشش امریکہ کو براہ راست اس جنگ میں دھکیل سکتی ہے ۔ لیکن امریکی فوج کے لیے یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے ۔حوثیوں نے ماضی میں سعودی اور امریکی بمباری کی مہمات کے باوجود خود کو سخت جان اور ماہر جنگجو ثابت کیا ہے ۔ ان کا مقابلہ کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ خطے میں پہلے سے موجود امریکی فوجی وسائل کو دو فعال محاذوں کے درمیان تقسیم کرنا پڑے گا۔'مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ' کے ماہر اور پینٹاگون کے سابق سینئر اہلکار جیسن کیمبل کا کہنا ہے :"آپ خطے میں موجود اپنے مضبوط دفاعی وسائل کو دو الگ الگ متحرک محاذوں پر تقسیم کر رہے ہوں گے ۔ بحرِ احمر کی دھمکی سے نمٹنے کے لیے امریکہ کو اپنے جنگی جہاز خلیج سے ہٹا کر یمن کے قریب بھیجنے پڑیں گے تاکہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی جا سکیں اور حوثی میزائلوں کا دفاع ممکن ہو سکے ۔"
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی بحریہ کے جہازوں اور طیاروں نے حوثی ڈرونز اور میزائلوں کو گرانا شروع کر دیا، تو اس سے امریکہ کے پاس موجود بارود اور ایئر ڈیفنس انٹرسیپٹرز کے ذخائر مزید کم ہو جائیں گے ۔ پینٹاگون نے اس پر فی الحال کوئی ردعمل دینے سے گریز کیا ہے ۔حوثی یمن کے زیادہ تر حصے پر قابض ہیں اور ماضی میں سعودی قیادت والے عرب اتحاد کی شدید بمباری اور حالیہ امریکی فضائی حملوں کا مقابلہ کر چکے ہیں۔ سابق امریکی حکام کے مطابق گزشتہ سال کے دو ماہ کے آپریشنز کے دوران ہی امریکہ کو دو ایئر کرافٹ کیریئرز، جنگی جہاز اور B-2 بمبار طیارے استعمال کرنے پڑے تھے ، جس کے باوجود حوثیوں کی جہاز رانی کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت ختم نہیں کی جا سکی۔ایک امریکی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا:"ہم پہلے ہی بہت زیادہ مصروف ہیں۔ کچھ جنگی جہازوں کو طویل عرصے تک سمندر میں رہنا پڑا ہے ،پہلے کیریبین میں اور اب مشرق وسطیٰ میں۔ مسلسل تعیناتیوں سے اہلکار تھکن کا شکار ہو رہے ہیں اور جہازوں کو دیکھ بھال کی ضرورت ہے ۔"فی الوقت 20 سے زائد امریکی بحری جنگی جہاز اور سینکڑوں طیارے مشرق وسطیٰ میں آپریشنز کر رہے ہیں، جبکہ مزید افواج بھی روانہ کی جا رہی ہیں۔ تاہم یمن کے قریب نئے محاذ کے لیے بحری و فضائی طاقت کے علاوہ انٹیلی جنس وسائل کو بھی دوبارہ سے متحرک کرنا پڑے گا۔تاہم، 'سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز' کے ریٹائرڈ میرین آفیسر مارک کینسیئن کا کہنا ہے کہ حوثیوں کو بھی سپلائی کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ایران پر امریکہ کی قائم کردہ بحری ناکا بندی کی وجہ سے حوثیوں تک سامان پہنچانا مشکل ہو چکا ہے ۔ اسی لیے حوثی اس مہم کو زیادہ دیر تک جاری رکھنے میں مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments