آئی ایم ایف اصلاحات کا موثر نفاذ، ادارہ جاتی استحکام، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری : عالمی ادارہ
ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنیکی کوششوں سے آمدن میں بہتری ، قرضوں میں کمی کو تقویت ملی ،ایس اینڈ پی گلوبل،ریٹنگ’’ بی ‘‘ کرنیکا خیر مقدم، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہونگے :وزیر اعظم وزیر خزانہ اورنگزیب کی امریکی ہم منصب سے ملاقات ،پاکستان اقتصادی استحکام کیلئے اصلاحات جاری رکھے :سکاٹ بیسنٹ ،10ارب ڈالر کی منظوری بڑی مالی مدد ہوگی :امریکی عہدیدار
واشنگٹن ( نیوز ایجنسیاں )کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل (S&P Global)نے پاکستان کی طویل المدتی کریڈٹ ریٹنگ کو مائنس بی سے بڑھا کر’’ بی‘‘ کر دیا ہے ۔ عالمی مالیاتی ادارے نے اس کی وجہ مضبوط ادارہ جاتی استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کے موثر نفاذ کو قرار دیا۔پاکستان کا ریٹنگ آؤٹ لک مستحکم برقرار رکھا گیا ہے ، کیونکہ توقع ہے مسلسل سرکاری مالی معاونت سے پاکستان کو اگلے 12 مہینوں کے دوران اپنی بیرونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور تجارتی کریڈٹ لائنز کو رول اوور (مدت میں توسیع)جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔
ایجنسی نے کہا کہ ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی حکومت کی کوششوں نے آمدن کی وصولی میں بہتری پیدا کی اور مالیاتی استحکام میں تیزی آئی ہے، جس سے ملک کے قرضوں کے بوجھ میں کمی کو تقویت ملی ہے۔ ایس اینڈ پی کے مطابق، آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات نے میکرو اکنامک استحکام کو بحال کرنے، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور پاکستان کی مالیاتی و بیرونی پوزیشن پر دباؤ کو کم کرنے میں مدد کی ہے، یہ اپ گریڈ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان مزید بیرونی مالی امداد کی تلاش میں ہے ،ایس اینڈ پی نے پیش گوئی کی ہے کہ مالی سال 2027 میں پاکستان کی معیشت 3.5 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے توانائی کی قیمتوں میں آنے والے ممکنہ بحران سے معمولی افراط زر (مہنگائی)کے دباؤ کی توقع ہے۔
دریں اثنا وزیراعظم نے عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بی مائنس سے بڑھا کر بی کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیشرفت ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، یہ کامیابی حکومت کی موثر معاشی پالیسیوں، مالیاتی نظم و ضبط، اصلاحاتی اقدامات اور قومی معیشت کو مستحکم بنانے کی مسلسل کوششوں پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے، عالمی ادارے کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری حکومت کے معیشت کو استحکام دینے ، ٹیکس نظام کو بہتر بنانے ، مالی خسارے میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کے درست سمت میں ہونے کا ثبوت ہے ،وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے مشکل مگر ضروری معاشی فیصلے کیے جن کے مثبت نتائج اب عالمی سطح پر بھی تسلیم کیے جا رہے ہیں،اس پیش رفت سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار میں مزید اضافہ ہو گا
واشنگٹن (رائٹرز )امریکی محکمہ خزانہ نے گزشتہ روز تصدیق کی ہے کہ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ سے واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اہم ملاقات کی ہے ۔ ملاقات کے دوران امریکی وزیر خزانہ نے پاکستان کی جانب سے معاشی اصلاحات کے نفاذ اور بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں دوبارہ واپسی کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے بیان میں کہا کہ سکاٹ بیسنٹ نے پاکستان کی جانب سے میکرو اکنامک استحکام کی بحالی اور مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔ سکاٹ بیسنٹ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان معاشی اصلاحات کو جاری رکھے تاکہ معاشی خود انحصاری، ترقی کی رفتار میں اضافہ اور اقتصادی استحکام حاصل کیا جا سکے۔
امریکا نے پاکستان کے اس عزم کی حمایت کی جس کا مقصد عالمی کیپٹل مارکیٹس میں کامیابی کے ساتھ دوبارہ جگہ بنانا ہے ،ایک امریکی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی کہ بیسنٹ کے ساتھ ملاقات کے دوران پاکستان نے 10 ارب ڈالر کی کرنسی سویپ لائن کی درخواست کی تھی، جو منظور ہونے کی صورت میں ایک بڑی مالی مدد ثابت ہو سکتی ہے ۔ امریکی محکمہ خزانہ کے سرکاری بیان میں فی الحال اس 10 ارب ڈالر کی درخواست پر بریفنگ شامل نہیں کی گئی،پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ چین اور سعودی عرب کے دوستانہ قرضی ڈیپازٹس اور رول اوورز پر مبنی ہے ،پاکستان کی خطے میں جاری کشیدگی اور بحران کو کم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو امریکی انتظامیہ کی جانب سے سراہا گیا ہے ، جس سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی روابط میں مزید بہتری کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments