کپاس کی پیداوار میں کمی سے سالانہ3 ارب ڈالر خسارہ

کپاس کی پیداوار میں کمی سے سالانہ3 ارب ڈالر خسارہ

ریگولیٹری تاخیرسے زرعی شعبہ بحران کا شکار ہے ،اوورسیز انوسٹرز چیمبر

کراچی(بزنس رپورٹر)اوورسیز انوسٹرز چیمبرنے زرعی شعبے پر اپنی جامع رپورٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں بالخصوص کپاس کی مسلسل گرتی ہوئی پیداوار معیشت، برآمدات اور زرِمبادلہ ذخائر کیلئے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے جس کے باعث ملک کو اضافی درآمدات اور برآمدی آمدنی میں کمی کی صورت میں سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر تک کے معاشی نقصان کا سامنا ہے۔سیڈز آف گروتھ کے نام سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق زرعی شعبہ ملک کی جی ڈی پی میں تقریباً 23 فیصد حصہ ڈالتا ہے جبکہ 37 فیصد افرادی قوت کا روزگار بھی اسی شعبے سے وابستہ ہے، اس کے باوجود ریگولیٹری منظوریوں میں تاخیر، غیر مستقل پالیسیوں اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے محدود استعمال نے پاکستان کی زرعی پیداوار کو خطے کے دیگر ممالک سے پیچھے دھکیل دیا ہے ۔ او آئی سی سی آئی کے چیف ایگزیکٹو ایم عبدالعلیم نے کہا کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے گزشتہ ماہ منظور کی جانے والی قومی بائیوٹیکنالوجی پالیسی پر تاحال عملی پیش رفت نہ ہونا تشویشناک ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...