یہ لوگ آئینی ترمیم، رائیونڈ کے شہری کو وزیر اعظم آزاد کشمیر بنانا چاہتے ہیں : بلاول بھٹو
الیکشن سے پہلے یہ پیر پڑ رہے ، الیکشن کے بعد گلے پڑ جائیں گے ،قصو ر کو لاہور جیسا نہیں بنا سکے ، گلگت کو کیا لاہور بنائینگے بات کرتے ہیں جیسے پنجاب میں دودھ شہد کی نہریں بہہ رہیں ، چولستان، پوٹھوہار، راجن پور، وہاڑی کا حال دیکھا کیا ہے ؟ کشمیر میں فون چلتا ہے نہ انٹرنیٹ، کیسے مہم چلا سکتے ہیں، ایسے انتخابات کی کیا ساکھ رہ جائے گی، خطاب، بی بی سی کو انٹرویو
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ن لیگ والے الیکشن سے پہلے آپ کے پیر پڑ رہے ہیں ، الیکشن نکل جائیں گے تو یہ لوگ آپ کے گلے پڑ جائیں گے ،جو لوگ قصور کو لاہور نہیں بنا سکے وہ گلگت بلتستان کو کیا لاہور بنائیں گے ، یہ ایسے شیر ہیں جو حقوق دیتے نہیں حقوق کھاتے ہیں ، ایل اے 3 میرپورسٹی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے ن لیگ کی لیڈر شپ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ راولا کوٹ اورمیرپور سے متعلق بیان پر وزیردفاع خواجہ آصف معافی ما نگیں یا عہدہ چھوڑ دیں ، تم کون ہوتے ہو یہ فیصلہ کرنے والے کہ میرپور اور راولا کوٹ کشمیر نہیں، آپ کون ہو فیصلہ کرنے والے کہ کشمیری کون ہے ؟ کشمیر پیپلزپارٹی کے ساتھ ہے ان کے ساتھ نہیں جو کشمیر مخالف بیانات دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا مظفرآباد میں ان کے قائدین نے تقریر کی لیکن سابق وزیرا عظم اور نہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے وزیر کے بیان کی مذمت کی، اس سے لگتا ہے کہ آپ اپنے وزیر کے بیان کے ساتھ کھڑے ہیں، بلاول نے سوال کیا کہ کیا انہوں نے کبھی دیکھا ہے کہ چولستان، پوٹھوہار، راجن پور، وہاڑی کا حال کیا ہے ؟ یہ کہتے تھے کہ ہم گلگت بلتستان کو لاہور بنادیں گے لیکن جی بی کے لوگ نہیں مانے ، جی بی کے لوگوں نے کہا کہ جب یہ اپنی حکومت میں کچھ نہ بناسکے تو جی بی کو کیا بنائیں گے ، یہ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ بندہ سوچتا ہے کہ کچھ کہوں یا نہ کہوں، یہ چاہتے ہیں کہ آئین میں ترمیم کریں اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا فیصلہ عوام نہیں پاکستان کا وزیراعظم کرے ، یہ چاہتے ہیں کہ رائے ونڈ کا شہری جو چار بار وزیراعظم بنا ہے وہ آزادکشمیر کا بھی وزیراعظم بنے۔
بلاول بھٹو نے ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا یہ ایسے بات کرتے ہیں جیسے پنجاب میں ہر علاقے میں دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، یہ ایسے بات کرتے ہیں جیسے والد اور چچا وزیراعظم یا وزیراعلیٰ نہ رہے ہوں، انہوں نے کہا عوام کی کیا غلطی ہے کہ آج آزادکشمیر کے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے ، احتجاج جب پر امن نہیں رہتا تو پھر نقصان ہوتا ہے ، جیسے احتجاج کرنے والے عوام کو سزا دے رہے ہیں ویسے ہی ریاست بھی سزا عوام کو دے رہی ہے ،عوام کا کیا قصور ہے یہاں انٹرنیٹ بھی نہیں چل رہا ہے ، یہ عوام کے ساتھ ظلم ہے ، ہمیں حکومت ملی تو صورتحال کو سنواریں گے خراب نہیں کریں گے ،بلاول بھٹو بولے میرپور سے میرا تعلق آج کا نہیں تین نسلوں کا ہے ، میرپور آزاد کشمیر آتا ہوں تو ایسا لگتا ہے اپنے دوسرے گھر آیا ہوں۔
آزاد کشمیر کا یہ الیکشن عام الیکشن نہیں شاید تاریخ کے سب سے اہم انتخابات ہے ، اس الیکشن میں آپ کے انتخاب سے آزاد کشمیر کا مستقبل جڑا ہوا ہے ، اس الیکشن میں آزاد کشمیر کے عوام کو تاریخ رقم کرنی ہے ، گلگت بلتستان کے عوام نے حق حاکمیت، حقوق اور حق ملکیت کے منشور پر ووٹ دیا، حق حاکمیت اور حق ملکیت گلگت بلتستان کے عوام کو دلوا کر دکھاؤں گا، یہی منشور میں آج آزاد کشمیر کے عوام کے لئے لایا ہوں،حق حاکمیت اور ملکیت کا اصول صرف 12 نشستوں سے متعلق نہیں، جو سمجھتے ہیں کہ 12 نشستیں ان کی جیب میں ہیں ، حق حاکمیت کے سوال کے لئے جدوجہد 12 نشستوں تک محدود نہ رکھیں، میں یہ بات نہیں مانتاکہ مہاجرین کو ووٹ نہ دیں، مہاجرین کو ووٹ بھی دیں اور الیکشن بھی لڑیں مگر آزاد کشمیر کا فیصلہ عوام کریں گے ، میں چاہتا ہوں کہ آزاد کشمیر کا وزیرخارجہ ہر فورم پر عوام کیلئے آواز اٹھائے ، چاہتا ہوں آزاد کشمیر کے عوام کا نمائندہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی بیٹھے۔
میں نے تجویر دی کہ کمیشن قائم کیا جائے جو تحقیقات کرے کہ حقائق کیا ہیں، اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اس کو سزا دی جائے ، بے گناہ کو کچھ نہ کہا جائے ، میری تجویز پر کسی فریق نے اب تک جواب نہیں دیا، سب سے درخواست ہے اگر ان کے پاس کوئی طریقہ ہے تو بتادیں یا اس تجویز پر مسئلہ حل کریں۔دریں اثنا بی بی سی کوا نٹرویو میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ کشمیر میں انتخابی مہم چلانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر وہاں نہ فون چلتا ہے اور نہ انٹرنیٹ، تو کیسے اپنی مہم چلا سکتے ہیں اگر ایسے ہی حالات رہے تو پھر اِن انتخابات کی کیا ساکھ رہ جائے گی،انہوں نے مزید کہا کہ وہ مانتے ہیں جن علاقوں میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے ، وہاں ضرور محدود پابندی لگائی جائے لیکن پورے کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش سے اجتماعی سزا کا پیغام دیا جا رہا ہے ۔ ایک سوال پر کہا کہ 12 سیٹوں کا معاملہ اسمبلی سے ہی حل ہونا چاہیے ، ایک اور سوال پر بلاول نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ میری جماعت کے امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے میں پریشانی کا سامنا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments