غزہ:اسرائیلی بمباری،بچے سمیت6افرادشہید،13زخمی

غزہ:اسرائیلی بمباری،بچے سمیت6افرادشہید،13زخمی

بے گھرفلسطینیوں کے خیموں کونشانہ بنایاگیا ،امن معاہدے پرقائم :حماس اسرائیل نے مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو عبادت کی باضابطہ اجازت دیدی

غزہ(اے ایف پی)غزہ سٹی کی بندرگاہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں بچے سمیت 6 افراد شہید اور 13 زخمی ہوگئے ۔ سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بسال نے بتایا کہ حملے میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا۔ عینی شاہد کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے ماہی گیروں کی بندرگاہ پر واقع ایک کیفے پر 2 میزائل داغے ۔حماس نے غزہ امن معاہدے پر قائم رہنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے تاحال معاہدے کے روڈ میپ کی واضح منظوری نہیں دی۔ اسرائیلی فوج کو مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو محصور کرنے والے یہودی آبادکاروں کو ایک ہفتے سے زائد گزرنے کے باوجود علاقے سے نکالنے میں ناکامی کا سامنا ہے ۔فلسطینیوں کے خلاف تشدد کو روکنے میں فوجی کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں صرف 3 فیصد زرعی زمین ایسی رہ گئی ہے جو قابل رسائی اور نقصان سے محفوظ ہے ۔اسرائیلی فوج نے لبنان میں 44 سال قبل ہلاک ہونے والے سارجنٹ فرسٹ کلاس یہودا کاٹز کی باقیات واپس اسرائیل پہنچا دیں۔وہ 1982 میں مشرقی لبنان میں شامی فورسز کے خلاف جنگ کے دوران لاپتا ہوئے تھے ۔ اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو عبادت کی باضابطہ اجازت دینے کی تصدیق کی ہے ۔اسرائیلی اخبار کے مطابق مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو پہلی بار دعائیہ کتابیں لے جانے کی بھی اجازت دی گئی ہے ۔اس سے پہلے مسجد اقصیٰ میں صرف مسلمانوں کو عبادت کی اجازت تھی، جب کہ یہودی مسجد کی بیرونی دیوار "دیوار گریہ" پر اپنی عبادت کیا کرتے تھے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...