ایرانی جوہری پروگرام:روس ، چین نے امریکی قراردا د ویٹو کردی
نیو یارک(اے پی پی)روس اور چین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی کیلئے اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے مینڈیٹ میں توسیع کیلئے امریکا کی حمایت یافتہ قرارداد کو ویٹو کر دیا۔
گزشتہ روز روس اور چین کے دہرے ویٹو کے باعث قرارداد منظور نہ ہو سکی۔ اس قرارداد کے ذریعے پابندیوں کی آزادانہ نگرانی کا نظام جاری رہنا تھا۔ یہ پابندیاں گزشتہ سال مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر 2015 کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد دوبارہ عائد کی گئی تھیں۔ ایران نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا۔ 15 رکنی سلامتی کونسل میں قرارداد کی حمایت میں 11 ووٹ پڑے جبکہ 2 مخالفت(روس اور چین) اور 2 ارکان (پاکستان اور صومالیہ) نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ پاکستان کی جانب سے رائے شماری میں حصہ نہ لینے کی وضاحت کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ایران کے جوہری معاملے پر غور اب اس تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کی روح سے بہت دور ہے جس نے قرارداد 2231(2015) کی منظوری کے وقت رہنمائی کی تھی۔ قرار داد 2231 نے جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن(جے سی پی او اے ) جسے ایران جوہری معاہدہ بھی کہا جاتا ہے کی توثیق کی تھی اور ایران پر اقوامِ متحدہ کی پابندیاں ختم کرنے کا شیڈول بھی مقرر کیا تھا۔
پاکستانی سفیر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر متفقہ راستہ اختیار کیا گیا، جس کے دور رس نتائج برآمد ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق زیرِ التوا معاملات کے حل کیلئے سفارت کاری اور مذاکرات بنیادی اصول رہنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل اس موقف کا حامی رہا ہے کہ تصادم کی بجائے سفارتی رابطے کو ترجیح دی جائے اور ایران کے جوہری مسئلے کو پرامن ذرائع اور متعلقہ فریقین کے حقوق، ذمہ داریوں اور فرائض کے مطابق حل کیا جائے ۔ روسی اور چینی نمائندوں کا موقف تھا کہ موجودہ نگرانی کے نظام میں سیاسی مداخلت بڑھتی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سزا دینے یا دباؤ ڈالنے پر مبنی نگرانی کے اقدامات تعمیری سفارتی مذاکرات کو فروغ دینے کی بجائے صورتحال کو مزید مشکل بناتے ہیں۔
پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ وعدوں پر عملدرآمد کریں، مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور سفارت کاری کو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے مفاد میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیں۔دریں اثنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے آریا فارمولا اجلاس میں پاکستان کی جانب سے حوثی باغیوں کے تجارتی جہازوں پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی جبکہ کشیدگی میں کمی اور محفوظ بحری آمدورفت کا مطالبہ کیا گیا ۔پاکستانی مستقل مندوب عاصم افتخارنے سعودی عرب کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments