دو تہائی سے زائد تارک وطن بچے تنہایورپ پہنچے :اقوام متحدہ
31ہزار 100بچوں میں سے 20ہزار سے زائدنے والدین کے بغیر سفر کیا سفر کے دوران بچے تشدد، بدسلوکی اور استحصال کا سامنا کر رہے :آئی او ایم
جنیوا(اے ایف پی) اقوام متحدہ کے اداروں نے بتایا کہ گزشتہ سال یورپ پہنچنے والے تارک وطن بچوں کی اکثریت تنہا سفر کر رہی تھی۔ سفر کے دوران یہ بچے تشدد، بدسلوکی اور استحصال کا سامنا کر رہے ہیں۔بیان کے مطابق گزشتہ سال نقل مکانی کے راستوں سے یورپ پہنچنے والے 31 ہزار 100 بچوں میں سے 20 ہزار سے زائد بچے والدین یا کسی سرپرست کے بغیر یورپ پہنچے ۔انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہایہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ محفوظ راستے محدود ہونے اور اسمگلروں پر انحصار کی صورت میں بچے تشدد اور استحصال کے کس قدر خطرے سے دوچار ہوجاتے ہیں۔بلغاریہ، قبرص، یونان، اٹلی، مالٹا اور اسپین میں سمندری اور زمینی راستوں سے یورپ پہنچنے والے بچوں کی تعداد 2024 کے مقابلے میں 25 فیصد کم ہوئی، تاہم والدین یا سرپرست کے بغیر آنے والے بچوں کا تناسب 51 فیصد سے بڑھ کر 67 فیصد ہوگیا۔یورپ پہنچنے والے بچوں میں 78 فیصد لڑکے جبکہ 22 فیصد لڑکیاں تھیں۔آئی او ایم کے مطابق ادارے نے 15 سے 24 سال عمر کے 4 ہزار 600 تارکین وطن سے انٹرویوز کیے ، جن میں سے تقریباً نصف نے یورپ پہنچنے کے راستے میں جسمانی تشدد کا سامنا کرنے کی اطلاع دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments