مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں:رانا ثنا اللہ:حکومتی ارکان سے رابطے:بیرسٹر گوہر:صوابی جاکر پلان بتائیں گے:سہیل آفریدی

مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں:رانا ثنا اللہ:حکومتی ارکان سے رابطے:بیرسٹر گوہر:صوابی جاکر پلان بتائیں گے:سہیل آفریدی

نیافوجی آپریشن نہیں ہوگا :مشیر سیاسی امور، سہیل آفریدی کا رویہ ایمرجنسی کی راہ ہموار کر رہا ،طار ق فضل، بلوچستان تو تعاون کر رہا وہاں امن کیوں نہیں؟:وزیر اعلٰی کے پی مذاکرات غیر مشروط ہونے چاہئیں:چیئرمین پی ٹی آئی ،بانی سے ملاقات کے بغیربات چیت نہیں ہوسکتی :اچکزئی ،مارچ ختم کرنے کی کنجی عمران خان کے پاس ہے : یوسفزئی

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی کو پھر مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں ، پی ٹی آئی ذاتی مفادات چھوڑ کر مذاکرات کی طرف آئے ، دروازے کھلے ہیں،وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، تاہم ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کرایا جاسکتا،انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا آغاز 2014 میں ہوا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ،پی ٹی آئی کا واحد ایجنڈا ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے ،رانا ثنااللہ نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات ہی کے ذریعے ممکن ہے ، اس لیے پی ٹی آئی ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھ کر مسائل کے حل کی طرف بڑھے ، انہوں نے کہا ہے کہ تحریک انصاف مسلسل محاذ آرائی کی سیاست پر عمل پیرا ہے ، سیاسی جماعتوں کو قومی سلامتی اور شہریوں کی زندگیوں پر اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔وزیراعظم کے مشیر نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ حکومت خیبر پختونخوا میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کی تیاری کررہی ہے جس سے لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑے گی ، ادھر ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وفاق پر حملہ آور ہوئے تو کے پی حکومت آئینی جواز کھو بیٹھے گی، پارٹی کے طورپر لانگ مارچ کرتے تو الگ بات تھی،صوبائی حکومت شامل ہے ،انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کا صفایا کرنے کے بعد فوج نے نہیں،سول انتظامیہ نے کنٹرول کرنا ہوتا ہے۔

حالت یہ ہے ایک ایک علاقہ10،10بار کلیئر کرنے کے بعد انتظامیہ سنبھالنے کیلئے تیار نہیں، خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں تھانے ہی نہیں، وفاق وقتی طور پر صوبے کے معاملات اپنے ماتحت کرے گا،انتظامیہ کو بھی چلائے گا،انہوں نے کہا کہ وفاق بعد میں کے پی کے معاملات منتقل کر دے گا،یہ چیز معاہدے کا حصہ ہونا تھی،ہم نے مسودے میں شق ڈالی ایک سیاسی کمیٹی بنے گی،دونوں اطراف کے لوگ ہوں گے ، فیصلہ ہوا تھا کہ سیاسی کمیٹی چھوٹے مسائل حل کرے گی۔ راناثنااللہ نے کہا کہ کے پی حکومت کو اعتراض ہے ڈرون استعمال نہ ہو تویہ کیسے ممکن ہے ؟ ، وزیراعظم نے اچھا مشورہ دیاہے ،لانگ مارچ میں کیا رکھاہے ؟ لانگ مارچ ختم کریں اور ہمارے ساتھ آکر بیٹھیں ، مذاکرات کیلئے حکومت ہمیشہ تیار رہی ہے ،اب بھی تیارہے ،، اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی کا رویہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی راہ ہموار کر رہا ہے ، وفاقی حکومت کو صوبے میں ایمرجنسی لگانے کا کوئی شوق نہیں،اگر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہوتی ہے تو اس کی وجہ وزیر اعلیٰ کا شدت پسندی کے خلاف جاری حکومتی پالیسیوں میں عدم تعاون ہو گا ،عمران خان کی ملاقاتوں کے معاملے پر وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کے لیے یہ انا کا مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی حکومت عمران خان کو کسی قسم کی تکلیف پہنچانا چاہتی ہے ۔ان کے مطابق عمران خان کی صحت اور علاج کے لیے ممکنہ حد تک بہترین سہولتیں فراہم کی گئی ہیں،عمران خان کی بہنوں کی ان سے ملاقاتیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں ۔

اسلام آباد،کوئٹہ،پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے حکومتی ارکان سے ہمارے رابطے ہیں اور کوشش ہے کہ مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جائے ، ہم مذاکرات سے انکار نہیں کر رہے لیکن مذاکرات غیر مشروط ہونے چاہئیں، یڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک و قوم اور جمہوریت کے لیے مذ اکرات کا کامیاب ہونا ناگزیر ہے ، گورنر راج یا ایمرجنسی نہیں لگنی چاہیے ، وزیراعظم نے مذاکرات کی مشروط پیشکش کی ہے ، ہم سیاسی لوگ ہیں، سیاسی لوگ غیرمشروط طور پر بیٹھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت نے باہر نکل کر اندر والی چیزیں ڈسکس کیں، جتنا وقت پریس کانفرنسز پر لگایا اتنا مذاکرات پر لگایا ہوتا تو مسئلہ حل ہو جاتا، دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے خیبر میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لانگ مارچ کے حوالے سے پلان کا اعلان صوابی جا کر کروں گا، انہوں نے کہا کہ جب تک وزیراعلیٰ ہوں خیبرپختونخوا میں فوجی آپریشن نہیں ہونے دوں گا، عوام مخالف ہر پالیسی کی مزاحمت کروں گا، انہوں نے کہا کہ چند روز قبل ہونے والے مذاکرات سیاسی نوعیت کے تھے جبکہ مسلط ذہنیت ہم سے ایک اور فوجی آپریشن کی دستاویز پر دستخط کرانا چاہتی تھی، میں کبھی اس پالیسی کا حصہ نہیں بنوں گا،انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ کے عوام کو شدید سردی میں بے گھر کیا گیا، ان لوگوں کو عوام کی مشکلات کا کیا احساس؟ فوجی آپریشنز سے پہلے قبائلی عوام خوشحال تھے ، 2004ء میں عمران خان نے فوجی آپریشنز کی مخالفت کی تھی، قبائلی خاندانوں کی آبادکاری کے لیے وفاق کی جانب سے فی گھرانہ 4 لاکھ روپے مختص کرنا ناقابل فہم ہے۔

جن کی بیویوں کے پرس کی قیمت 4 لاکھ سے زیادہ ہے وہ قبائلی خاندانوں کی آبادکاری کے لیے صرف 4 لاکھ دیتے ہیں، کیا ہم کیڑے مکوڑے ہیں؟ یہ کہتے ہیں خیبر پختونخوا حکومت تعاون نہیں کر رہی، بلوچستان حکومت تعاون کر رہی ہے تو وہاں امن کیوں نہیں؟ مزید کہا کہ عمران خان نے قبائلی عوام کو شناخت اور عزت دی، 78 سال بعد وزیراعلیٰ کا منصب قبائلی عوام کو ملا ہے ، عمران خان کی دی ہوئی عزت کی حفاظت کرنا جانتے ہیں،عمران خان پاکستانی عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم ہر قیمت پر اپنا حصہ ڈالیں گے ، میں نے اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھ دیا، اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ وہ میرے ساتھ ہیں یا ان کے ساتھ جنہوں نے ان کے گھر، حجرے تباہ اور مساجد کو شہید کیا ہے ۔ کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے موجودہ اقدامات سے ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش نظر آ رہی ہے ،جمہوریت کا نعرہ لگانے والی جماعت نے ماضی میں ذاتی مفادات کے لیے بنگلہ دیش کو پاکستان سے جدا کیا، ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا پیپلز پارٹی کا وتیرہ رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ گورنر کی جانب سے گزشتہ روز کیا جانے والا ڈرامہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے ، خیبرپختونخوا میں عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ہے ، صوبائی اسمبلی، کابینہ اور حکومت مکمل طور پر فعال اور برقرار ہیں۔انہوں نے کہا کہ گورنر، چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلا رہے ہیں ، غیر آئینی اجلاس کر رہے ہیں۔ گورنر کا اس نوعیت کے اجلاس کی صدارت کرنا آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے ۔ اجلاس کی آئینی حیثیت پر ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی، انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی طریقہ موجود ہے ، اس کے لیے عدم اعتماد کا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے ،انہوں نے کہا کہ صوبے کی پولیس کے پاس پاکستان میں موجود کسی بھی پولیس کے مقابلے میں جدید ترین اسلحہ اور آلات موجود ہیں ،وفاق کی موجودہ پالیسی نہ خیبرپختونخوا میں موثر ہے نہ بلوچستان میں، پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے ۔ ادھر اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے ۔

ژوب میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو عمران خان سے ملاقات کروانا ہوگی،گارنٹی دیتے ہیں بانی سے ملاقات کے بعد تمام مسائل کے حل تک مذاکرات ختم نہیں ہوں گے ، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگا تو ملک کا ہر چوراہا بند کریں گے ، اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری پر وزیراعظم یا سپیکر دفتر میں ملاقات نہیں ہوگی، نواز شریف کے مری والے گھر میں بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہیں، دریں اثنا پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا کہ لانگ مارچ کسی دباؤ کے تحت ختم نہیں ہوگا، لانگ مارچ ختم کرنے کی کنجی اڈیالہ جیل میں بند عمران خان کے پاس ہے ، وزیراعظم صاحب میڈیا پر مذاکرات، مذاکرات نہ کھیلیں، اگر اختیارات ہیں تو ہمارے جائز مطالبات تسلیم کریں۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اگر سہیل آفریدی کو غیر جمہوری طریقے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تو قبائل کے اندر بھی تشویش پائی جائے گی اور یہ کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں ہوگا،انہوں نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا نے کس حیثیت میں آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کو طلب کیا ،18 ہویں ترمیم کے بعد تو گورنر کے پاس اخروٹ توڑنے کا اختیار نہیں ہے ، کیا گورنر نے اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا؟ گورنر صاحب ابھی تو ایمرجنسی لگی ہے نہ گورنر راج ، پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف چارج شیٹ انتہائی گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہے ۔ خیبر پختونخوا حکومت نے محدود وسائل کے باوجود پولیس کے لیے صوبائی بجٹ کا 8.8 فیصد مختص کیا ہے ، جو چاروں صوبوں میں سب سے زیادہ ہے ۔‘‘ایکس’’ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا خیبرپختونخوا پولیس کے بجٹ میں 41 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ، خیبر پختونخوا میں تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار پولیس اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آبادی کے تناسب سے خیبر پختونخوا میں فی پولیس اہلکار تقریباً 292 افراد آتے ہیں، جبکہ پنجاب میں یہ تناسب 541 افراد ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...