پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر مستحکم:آئی ایم ایف ٹیکس اہداف حاصل کرنے پر اظہار اطمینان
زرعی شعبے میں انکم ٹیکس کی وصولی کے اہداف پر آئی ایم ایف کی تشویش، اقتصادی جائزہ مذاکرات مکمل ایم ای ایف پی کا ڈرافٹ معاشی ٹیم سے شیئر،آج اتفاق رائے پر 1.2 ارب ڈالر کیلئے سٹاف لیول معاہدہ متوقع
اسلام آباد(مدثر علی رانا) آئی ایم ایف وفد اور معاشی ٹیم کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات مکمل ہو گئے ۔ آئی ایم ایف وفد کے کچھ ارکان مذاکرات کرنے کے بعد واپس روانہ ہو گئے ، آئی ایم ایف وفد کے کچھ ارکان آج واپس روانہ ہو جائیں گے ۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آج آئی ایم ایف کے ساتھ اہم پیشرفت متوقع ہے ، آئی ایم ایف اور معاشی ٹیم کے درمیان مذاکرات مکمل ہوئے ہیں۔ کچھ اہداف پر آئی ایم ایف سے ورچوئل بھی بات چیت ہو گی۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم قرار دے دئیے اور اطمینان کا اظہار کیا ۔ جولائی سے ستمبر ایف بی آر کے اہداف حاصل ہونا خوش آئند قرار دیا گیا، ٹیکس آمدن کا ہدف حاصل ہونے کی وجہ سے پہلی سہ ماہی میں اہم معاشی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ رواں سال کے آخر میں کسانوں کیلئے فکسڈ ٹیکس سکیم بھی متعارف کرانے پر بات چیت ہوئی۔سٹیٹ بینک نے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم بنانے اور افراط زر کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات کیے ۔ آئی ایم ایف وفد نے معاشی ٹیم کے ساتھ میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز کا ڈرافٹ شیئر کر دیا ۔ ایم ای ایف پی پر اتفاق رائے پیدا ہونے ، تقریباً 1.2 ارب ڈالر سٹاف لیول معاہدہ ہونے پر پاکستان کو ملیں گے ۔آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں مجموعی معاشی صورتحال پر وفد نے اطمینان کا اظہار کیا جبکہ آئی ایم ایف کا زرعی شعبے میں انکم ٹیکس کی وصولی کے اہداف پر تشویش بھی ظاہر کی گئی۔
وزارت خزانہ کے مطابق معیشت کے استحکام، محصولات اور مالیاتی نظم و ضبط سے متعلق امور زیر بحث آئے ۔آئی ایم ایف مشن پاکستان کے معاشی و مالیاتی اقدامات پر حکام سے بات چیت آئندہ بھی جاری رکھے گا۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آئی ایم ایف کو بریفنگ دی گئی کہ پاکستان میں زرعی شعبے کی پیداواری لاگت کی وجہ سے کسان مسلسل خسارے میں ہیں۔ پاکستان میں بیشتر کسان اتنے خوشحال نہیں کہ انکم ٹیکس دینے کے قابل ہوں۔آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں وفاقی حکومت نے کاشت کاروں کے موقف کی حمایت کی جس میں بتایا گیا کہ خطے کی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے پیداواری لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ صوبائی حکومتیں زرعی انکم ٹیکس کا حجم بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہی ہیں لیکن تاحال خاطر خواہ نتائج موصول نہیں ہو سکے ۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے آئی ایم ایف کو ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ صوبوں میں نان ٹیکس ریونیو بڑھا کر سرپلس کے اہداف حاصل کرنے پر بھی بریفنگ دی گئی۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی آئی ایم ایف مشن سے اہم ورچوئل مذاکرات ہوئے ۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ای ایف ایف کے چوتھے جائزے پر بات چیت کی گئی۔ آئی ایم ایف مشن سے آر ایس ایف کے تیسرے جائزے پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف وفد کو ملکی معاشی و اقتصادی صورتحال پر بریفنگ دی۔ وزیر خزانہ نے معاشی استحکام اور اصلاحات پر حکومت کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مقررہ اہداف اور پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ پاکستان کی معاشی کارکردگی، مالیاتی امور اور اصلاحاتی اقدامات پر گفتگو ہوئی۔ آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کے حصول اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments