ریاض ائیرپورٹ پر دوبارہ حملہ، آتشزدگی: سعودی دفاعی نظام نے کروز میزائل تباہ کردیا

ریاض ائیرپورٹ پر دوبارہ حملہ، آتشزدگی: سعودی دفاعی نظام نے کروز میزائل تباہ کردیا

ایئرپورٹ کی بندش میں مزید 24 گھنٹے کی توسیع، حملہ ناقابل قبول :ٹرمپ ،عرب ممالک ،اقوام متحدہ ، یورپی یونین کی مذمت شہریوں پر حملے عالمی قانون کی خلاف ورزی ، شہبازشریف ، عالمی برادری ایسے اقدامات کی غیر مشروط مذمت کرے ، دفتر خارجہ

 ریاض ،صنعا،واشنگٹن ، اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں ،نامہ نگار ، دنیا نیوز )سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ ایک بار پھر حملوں کی زد میں آیا ہے ۔اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ایک نامعلوم پروجیکٹائل نے ایئر پورٹ کے مسافر ہال نمبر 4 کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور متعلقہ حکام اس پر قابو پانے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔ایک علیحدہ بیان میں انھوں نے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے ہوائی اڈے کے قریب ایک کروز میزائل کو تباہ کر دیا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاض ہوائی اڈا ہفتے کو ہونے والے حملے کے بعد تاحال بند ہے ، جس میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔ یمن کے حوثی گروہ نے ہفتے کو ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ سعودی عرب کے ایئرپورٹس کا استعمال نہ کریں کیونکہ وہ اب محفوظ نہیں ہیں۔حوثیوں کے ترجمان یحیی سریع نے کہا کہ سعودی عرب نے گز شتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمنی علاقوں پر 124 فضائی حملے کیے ۔ہم نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چار کارروائیاں کیں، جن میں کنگ خالد ایئرپورٹ پر تین مراحل میں حملے ، شُگدم گیس فیسلٹی پر حملہ، آرامکو آئل ریفائنری پر حملہ اور دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ شامل ہیں۔حوثیوں کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہاہم تمام بین الاقوامی کمپنیوں، ماہرین، ملازمین، کارکنوں اور دنیا بھر سے سفر کرنے والوں کے لیے اپنی تنبیہ دوبارہ دہراتے ہیں کہ وہ سعودی ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں نہ چلائیں کیونکہ وہ محفوظ نہیں ہیں، سوائے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود کے ۔

حوثیوں کے زیرِ انتظام المسیرہ ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فضائی حملہ کیا ہے ۔سعودی حکومت کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے ۔ فلائٹ ٹریکنگ ادارے فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ایئرپورٹ کی بندش میں مزید 24 گھنٹے کی توسیع کردی گئی ہے ، سعودی حکام نے ایک روز قبل ایئرپورٹ عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ریاض کے تمام سکولوں میں ایئرپورٹ پر حملوں کے بعد ایک ہفتے کیلئے آن لائن تعلیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ٹرمپ نے ریاض ایئرپورٹ پر حملے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے ۔ امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اس واقعے پر بات کریں گے ۔ریاض کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کے حملے کی عرب ممالک ، اقوام متحدہ، یورپی یونین، جرمنی اور برطانیہ نے شدید مذمت کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حملے پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے حملے کو خطرناک پیش رفت قرار دیا جبکہ جرمنی اور برطانیہ نے بھی اسے قابل مذمت قرار دیتے ہوئے سعودی عرب سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ فرانس نے حوثیوں سے حملے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سعودی سرزمین اور تنصیبات کے دفاع میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی کے تحفظ کیلئے تمام اقدامات کی حمایت کردی۔ اماراتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں سعودی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کی مذمت کی۔عراق نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے واقعات علاقائی سلامتی اور استحکام کیلئے خطرہ ہیں۔ برطانوی وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ نے کہا ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملہ خطرناک اشتعال انگیزی ہے ،جرمن وزیر خارجہ یوہان نے حوثی باغیوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سعودی عرب اور شہری ہوابازی کے خلاف دہشتگردانہ کارروائی قرار دیا ہے ۔ سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ مملکت میں تعینات امریکی سرکاری ملازمین کو اب جدہ اور دمام کے ہوائی اڈوں کے استعمال کے لیے بھی خصوصی اجازت لینا ہوگی۔ اس سے قبل ریاض کے ہوائی اڈے کے لیے بھی ایسی ہی ہدایت جاری کی گئی تھی۔ وزیراعظم شہبازشریف نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حملے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کیلئے دعاگو ہیں، شہریوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں، ایسے پرتشدد اقدامات علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کرنے والے حملے فوری بند کئے جائیں،پاکستان مملکت سعودی عرب اس کی قیادت اور برادر عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے ، شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری،علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے عزم پر قائم ہیں ۔ دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ریاض میں شاہ خالد ائیرپورٹ پر حوثیوں کے تازہ ترین دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہے ، شہری ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی ہے ۔وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق یہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور علاقائی امن و سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے ، بیان میں مزید کہا گیا کہ ہماری دعائیں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، حوثیوں کی جانب سے شہری آبادی اور انفراسٹرکچر کو مسلسل نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق عالمی برادری کو ایسے اقدامات کی غیر مشروط مذمت کرنی چاہئے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...