نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- بلوچستان کےضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسزکی چوکی پردہشتگردوں کاحملہ
  • بریکنگ :- پاک فوج کی جانب سےموثرجوابی کارروائی،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- فائرنگ کےتبادلےمیں سپاہی محمدقیصرشہید،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- دہشتگردوں کی تلاش کیلئےعلاقےمیں سرچ آپریشن جاری،آئی ایس پی آر
Coronavirus Updates
ادارتی صفحہ - ورلڈ میڈیا
پاکستان اور بیرونی دنیا کے اہم ترین ایشوز پر عالمی اخبارات و جرائد میں چھپنے والی تحریروں کا ترجمہ
WhatsApp: 0344 4450229

ماحولیاتی آلودگی کے خلاف سرمایہ کاری

تحریر: لیری فِنک

جب عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے حکام کی اس ہفتے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ملاقات ہو گی تو ان کے پاس ازسر نو غور کرنے کا موقع ہو گا کہ ان فنڈز کو استعمال کرتے ہوئے ماحولیاتی تبدیلیوں میں مضمر خطرات کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟ اس وقت بھی کئی عالمی ممالک2050 ء تک کاربن فری دنیا کا ہدف حاصل کر نے کے لیے کام کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم جتنی کاربن پیدا کر رہے ہیں‘ اتنی ہی کاربن کا خاتمہ بھی کیا جائے مگر اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اس شعبے میں نجی سرمایہ کاری کے لیے کیسے تحرک پیدا کیا جائے تاکہ ترقی پذیر ممالک بھی اپنے حصے کا کام کر سکیں؟ آنے والے عشروں میں برازیل، بھارت، انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ جیسی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں کاربن کے تیز رفتار اخراج کے امکانات ہیں اور یہ اخراج امریکا، یورپی یونین کے رکن ممالک اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک کے کاربن اخراج سے بھی زیادہ ہو گا۔ اگر ایسا ہو گیا تو پوری دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

کاربن اخراج کا نیٹ زیرو کا لیول حاصل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر میں غیر معمولی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ غریب ممالک میں کم کاربن خارج کرنے والے پروجیکٹس میں سالانہ ایک ٹریلین سے زائد ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی جو سرمایہ کاری کی موجودہ شرح 150 بلین ڈالرز سے کم از کم 6 گنا زیادہ ہے۔ ابھرتی ہوئی منڈیوں کی حکومتیں اکیلے اتنی بھاری سرمایہ کاری نہیں کر سکتیں مگر وہ نجی سرمایہ کاروں کو ترغیب دینے کے لیے ہر ممکن کوششیں کر رہی ہیں۔ پنشن فنڈز اور انشورنس کمپنیوں جیسے ادارے ایسی مارکیٹس میں سرمایہ کاری کرنے کے معاملے میں کافی محتاط ہوتے ہیں جہاں سیاسی استحکام، کریڈٹ رسک اور معاہدوں پر عملدرآمد کا فقدان ہو۔ اس طرح کے سرمایہ کار اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے سٹیک ہولڈرز کے مالی مفادات کا بھرپور خیال رکھیں۔ 

ایسے اداروں کو سرمایہ کاری پر مائل کرنے کے لیے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کو اپنے ہاں وسیع تر سٹرکچرل اصلاحات کی ضرورت ہے مگر ان پر تو کئی سال لگ سکتے ہیں اور دنیا کے پاس اتنا وقت نہیں ہے؛ چنانچہ ہم وقت پر یہ ضروری سرمایہ کاری کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ امیر ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے عوام سے ٹیکس کی مڈ میں ملنے والی رقوم کو کاربن کا نیٹ زیرو لیول حاصل کرنے کے لیے بیرونی ممالک میں لگائیں۔ اس ضمن میں ان کی موجودہ کوششیں بہت ناکافی ہیں۔ موجودہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں ماحولیاتی تبدیلی کے شعبے میں ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے اس وقت صرف 16 ارب ڈالرز کی سالانہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

میری کمپنی نے اپنی ریسرچ کی بنیاد پر کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے ایک ٹریلین ڈالرز سالانہ کی نجی اور سرکاری سرمایہ کاری کی تحریک شروع کی ہے اور اس مقصد کے لیے ہمیں ان ممالک سے 100 ارب ڈالرز کی گرانٹ یا سبسڈیز کی ضرورت ہوگی جو یہ افورڈ بھی کر سکتے ہیں، ان ممالک میں آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ کے رکن ممالک اور چین شامل ہیں۔ اگرچہ بظاہر یہ رقم بہت بڑی لگتی ہے مگر دنیا ابھی کووڈ کی تباہ کاریوں سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس وقت ماحولیاتی تبدیلیوں پر سرمایہ کاری کرنے میں ناکامی کی صورت میں ہمیں بعد میں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ ماحولیاتی تباہی کبھی سرحدوں کی پروا نہیں کرتی۔ اگر دنیا نے کوئی اجتماعی ایکشن نہ لیا تو ہر ملک کو گلوبل وارمنگ کی صورت میں بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی جس میں قدرتی آفات سے ہونے والی بار بار کی تباہی اور سپلائی چین میں ناکامی جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔ اگر ہم اگلے بیس سال سالانہ ایک سو ارب ڈالرز کی سرکاری فنڈز کی سرمایہ کاری کر لیں تو ہم بعد میں 10 گنا قیمت چکانے سے بچ سکتے ہیں۔ اگر ہم 2050ء تک اپنا کاربن اخراج کا نیٹ زیرو کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ہمیں سنگین نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں کاربن کو نیٹ زیرو پر لانے کے لیے فنڈز جمع کرنے کے لیے لازمی ہے کہ سرکاری فنڈز کا استعمال کر کے مزید نجی سرمایہ کاری اکٹھی کی جائے۔ گرانٹس اور سبسڈیز کی شکل میں سرکاری فنڈنگ سے کئی ایسے رسک معدوم ہو جائیں گے جو ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سرمایہ کاری کرتے وقت پیش آسکتے ہیں۔ اس طرح سرمایہ کار اداروں کے لیے ماحولیاتی پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کا قابلِ عمل آپشن پیدا ہو جاتا ہے۔ اس وقت ہر گرانٹ یا سبسڈی کے لیے نجی سرمایہ کاری کے لیے معمولی سی رقم دستیاب ہے۔ عالمی بینک اور دیگر کثیر جہتی ڈویلپمنٹ بینکوں کا تخمینہ ہے کہ سرکاری مد سے خرچ ہونے والے ہر ایک ڈالر کے بدلے میں انہوں نے نجی شعبے کواوسطاً ایک ڈالر سے کم ہی رقم فراہم کی ہے۔ وہ رسک جو نجی سرمایہ کاروں کو ماحولیاتی تبدیلی میں سرمایہ کاری کرنے سے روکنے اور انہیں خوفزدہ کرنے کا باعث بن رہے ہیں‘ اگر حکومت ان میں اپنی طرف سے سرکاری سرمایہ کاری کر کے ایسے رسک کو شیئر کر لیتی ہے تو اس کے نتیجے میں ابھرتی ہوئی منڈیوں میں سرمایہ کاری کے حوالے سے نجی سرمایہ کاروں میں بھی یقینا ایک حقیقت پسندانہ ادراک پیدا ہو سکتا ہے۔

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے کثیر جہتی مالیاتی اداروں کو اکثر اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ جب بھی کوئی سنگین بحران جنم لیتا ہے تو یہ ادارے کوئی بھی امدادی اقدام کرنے میں تاخیر اور سست روی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس مسئلے کا ایک متبادل حل تو یہ ہے کہ ایسے نئے مالیاتی ادارے ڈیزائن کیے جائیں جو دنیا کودرپیش ماحولیاتی آلودگی جیسے سنگین ترین مسئلے سے نمٹنے کے لیے پوری آزادی سے اور فوری طور پر سرمایہ کاری کے لیے مطلوبہ فنڈز کی فراہمی کا بندوبست کر سکیں؛ تاہم میرے خیال میں اس مسئلے کا ایک حل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ موجودہ کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں، کثیر جہتی ایجنسیوں اور ماحولیات کے لیے دستیاب فنڈز کو ازسر نو تشکیل دیا جائے تاکہ وہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے ملنے والی گرانٹس اور سبسڈیز کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کر سکیں۔ اس وقت ہمیں اس امرکی اشد ضرورت ہے کہ ان اداروں کی اہمیت کو مقامی سطح پر اجاگر کیا جائے اور وہ گرین بینکوں کے قیام جیسے حل میں سرمایہ کاری کر سکیں کیونکہ یہ گرین بینک ہی سرمایہ حاصل کر سکتے ہیں اور پھر اسے بین الاقوامی طور پر سرکاری اور نجی سرمایے کے ساتھ اشتراک کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔

مجھے قوی امید ہے کہ واشنگٹن میں ملاقات کرنے والے رہنما اب دلیری کا مظاہرہ کریں گے اور انٹرنیشنل اداروں کو مجبور کریں گے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کا شکار ہونے والے غریب ممالک کے بارے میں اپنی اپروچ پر نظر ثانی کریں۔ ہمیں اس امر کا پورا ادراک ہونا چاہئے کہ وقت بہت تیزی سے ہمارے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔

(بشکریہ: نیویارک ٹائمز، انتخاب: دنیا ریسرچ سیل، مترجم: زاہد رامے)

(ادارے کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement