آتش زدگی ، خطرات ، نقصانات
لاہور میں واقع ملک کی ایک بڑی الیکٹرونکس مارکیٹ میں اتوار کو لگنے والی آگ میں بلا مبالغہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی گئی۔کاروباری مراکز اور صنعتوں میں آتش زدگی کے زیادہ تر واقعات کا سبب شارٹ سرکٹ ہی کو قرار دیا جاتا ہے اور یہ واقعات ہر سال اربوں روپے کے نقصان کا سبب بنتے ہیں ‘ باوجود اس کے ان حادثات سے بچاؤ کے اقدامات پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی جاتی۔ حفیظ سنٹر ہی کو دیکھ لیں ‘ ایک ایسی مارکیٹ جہاں روزانہ کروڑوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے ‘ مگر حفاظتی اقدامات کا عالم یہ ہے کہ اس مصروف ترین کاروباری مرکز میں نہ بجلی کا نظام قابل بھروسہ تھا اور نہ ہی آگ بجھانے کیلئے عمارت کے اندر ہائیڈرنٹس کام کر رہے تھے۔اگر اس کاروباری مرکز میں بجلی کی ترسیل کا نظام تسلی بخش حد تک محفوظ ہوتا اور قانونی تقاضوں کے مطابق عمارت کے اندر فائر ہائیڈرنٹ سسٹم درست حالت میں ہوتا تو اس حادثے سے یقینی طور پر بچا جا سکتا تھا جو درجنوں چھوٹے بڑے تاجروں کی زندگی بھر کی جمع پونجی بھسم کر گیا ہے۔
کاروباری مراکز کی انتظامیہ اور تاجر یونینز پراس سلسلے میں بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حفاظتی انتظامات کو سنجیدگی سے لیں اور ان پر عمل کروایا جائے۔ کسی ایک بڑے کاروباری مرکز کی بات نہیں ‘ تقریباً سبھی نہایت پُر ہجوم ‘ تجاوزات سے بھر پور اور ہنگامی حالات سے بچاؤ کے انتظامات سے محروم ہیں۔ حکومتی اداروں کی بھی کوتاہی ہے کہ وہ آتش زدگی کے سالانہ درجنوں بڑے واقعات کے باوجود کیوں سنجیدہ اقدامات نہیں کرتے اور قواعد و ضوابط پر عمل نہیں کروایا جاتا۔ مگر جب تک تاجر تنظیموں کا تعاون اس سلسلے میں اداروں کو حاصل نہ ہو گا حکومت سختی سے قواعد پر عمل کروانا چاہے بھی تو شاید ایسا ممکن نہ ہو؛چنانچہ ہر حال میں تاجر تنظیموں اور کاروباری مراکز کی انتظامیہ کو ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گاکیونکہ یہ بہرصورت انہی کے مفاد میں ہے۔ہر کاروباری مرکز میں بجلی کی ترسیل کا تسلی بخش نظام ہونا چاہیے اور شارٹ سرکٹ کا سبب بننے والے فیکٹرز سے تکنیکی طور پر پیشگی نمٹنا چاہیے ‘ نیز آگ بجھانے کا پائیدار سسٹم بھی ہر بڑی عمارت میں موجود ہونا چاہیے ۔
یہ محض ضابطے کی کارروائی کیلئے ضروری نہیں بلکہ تاجروں کا مالی مفاد بھی اس سے جڑا ہوا ہے۔ جب حفاظت کی غرض سے لوگ کاروباری مقامات پر سکیورٹی گارڈ تعینات کر لیتے ہیں تو بجلی اور آگ سے جڑے خطرات کو کیوں نظر انداز کردیتے ہیں جو لمحوں میں کسی کو عمر بھر کی جمع پونجی اور بنے بنائے کاروبار سے محروم کر سکتے ہیں۔ حکومتی سطح پر آگ بجھانے کے انتظامات کو بھی شہری ضرورتوں کے مطابق مؤثر بنایا جانا ضروری ہے۔ اتوار کے روز لاہور میں لگنے والی آگ سے نمٹنے کے لیے شیخوپورہ اور قصور سے فائر بریگیڈ منگوانے پڑے۔ کیسی حیرت کی بات ہے کہ سوا کروڑ آبادی کے اس شہر میں ایک پلازے کی عمارت میں لگی آگ پر قابو پانے کے انتظامات بھی نہیں ‘ یہ لمحہ فکریہ ہے۔