مقدسات کا تحفظ اور ہماری ذمہ داریاں
اسلامی تعاون تنظیم نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ قرآن پاک کے نسخوں کی بے حرمتی اور نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی کے واقعات کو روکنے کیلئے متحد اور اجتماعی اقدامات کریں۔ 57 رکنی مسلم ممالک کی سرکردہ تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کے گزشتہ روز جدہ میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں تنظیم کے سیکرٹری جنرل ابراہیم طلحہ نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی قانون کے فوری اطلاق کے حوالے سے عالمی برادری کو مسلسل یاد دہانی بھیجنی چاہیے جو مذہبی منافرت کی کسی بھی دلیل کی واضح طور پر مخالفت کرتا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی قانون کے فوری اطلاق کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کو مسلسل یاددہانی بھیجنی چاہیے ۔اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے عالمی سطح پر یہ اقدامات ناگزیر ہیں اور مسلم حکمرانوں کی بنیادی ذمہ داری بن چکے ہیں‘مگر ان اجتماعی کوششوں کے علاوہ ہر ملک کو انفرادی سطح پر بھی اور شہریوں کے بااثر حلقوں کی جانب سے بھی اس حوالے سے منطقی اور مبنی بر دلائل آواز اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ دنیا کا کوئی بقائم ہوش و حواس فرد یا معاشرہ کسی مذہب کی مقدس شخصیات اور کلام کی گستاخی کی اجازت نہیں دے سکتا‘ خود یورپی ممالک کے قوانین کا بھی یہی منشا ہے‘ مگر بد قسمتی سے بعض یورپی ممالک میں اس قسم کے اشتعال انگیز واقعات کا تسلسل یہ ثابت کرتا ہے کہ ان ممالک کے حکمران اور رائے عامہ کی تعمیر کے بااثر حلقے ان واقعات کے اثرات اور مسلمانوں کے جذبات کو ان سے پہنچنے والی ٹھیس کے حوالے سے حساسیت اور احساسِ ذمہ داری سے مجرمانہ حد تک غافل ہیں۔ اس قسم کی اشتعال انگیزی نے مسلم اور یورپی دنیا میں عدم اعتماد اور بد گمانی کی وسیع خلیج پیدا کر دی ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ یورپی شہری مسلمانوں کی اپنے دین کے ساتھ گہری وابستگی اور عقیدت سے ناآشنا ہوں۔ اگر کہیں ایسی جہالت واقعتاً پائی جاتی ہے تو اس کا تدارک اور آگاہی کی ذمہ داری اُن ممالک کی حکومتوں پر ہے۔ مگر ہم نہایت افسوس اور بے پایاں غم و غصے کے ساتھ یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ اسلامی مقدسات کے حوالے سے یورپی شہریوں کی دریدہ دہنی اور گستاخیوں پر اُن ممالک کی حکومتوں کی جانب سے وہ ضروری اقدامات نہیں کیے جارہے جو اصولاً انہیں کرنے چاہئیں۔ اس سلسلے میں بعض ممالک کا رویہ زیادہ شرمناک‘ غیر ذمہ دارانہ اور انتہا پسندی پر مبنی ہے جس کے نتائج عالمی امن کیلئے غیر معمولی خطرہ بننے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ حکومتیں اپنی ذمہ داریوں کو نہیں پہچانتیں اور بد قسمتی سے اسلام مخالف واقعات کی روک تھام کیلئے ضروری اقدامات نہیں کیے جاتے تو اس کے نتیجے میں اقوامِ مشرق و مغرب میں جو تعلقات بنیں گے ان کی بنیاد میں عداوت اور انتقام کا جذبہ کارفرما ہو گا‘ جس کے نتیجے میں ایسے افسوسناک واقعات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا جو نقضِ امن کا سبب بن سکتے ہیں؛ چنانچہ مغربی ممالک کو مسلمانوں کے جذبات کو سمجھنا اور ان کا احترام کرنا ہو گا اور اس سلسلے میں مغربی حکومتوں کی جو ذمہ داریاں ہیں ان پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دینا چاہیے۔ اس کیلئے مسلم دنیا کو مؤثر حکمت عملی کے ساتھ مربوط کوششوں کی ضرورت ہے جو حکومتی سطح پر روابط کے علاوہ سماجی سطح پر مکالمے اور علمی کام کی صورت میں ہونی چاہئیں۔ یورپی معاشرے عام طور پر مذہبی گستاخیوں کے افسوسناک واقعات کو رائے کی آزادی کی سماجی قدر کے پیرائے میں چھپاتے ہیں‘ حالانکہ یہ سراسر لغو بات ہے اور کسی ملک کا قانون اس قسم کی بھیانک آزادی کی اجازت نہیں دیتا۔ آزادی کے معاملے میں اصولِ قانون بہت واضح ہے کہ جہاں میری ناک شروع ہوتی ہے وہاں دوسرے کی چھڑی گھمانے کی آزادی ختم ہو جاتی ہے۔ مسلم حکومتوں کی دینی اورملی ذمہ داری ہے کہ یورپی معاشروں میں اسلام دشمنی کا مقابلہ کریں۔