اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

افسوس ناک آتشزدگی

کراچی میں ایک عمارت میں لگنے والی آگ کے باعث تین افراد جاں بحق اور دو جھلس کر شدید زخمی ہو گئے جبکہ 50 سے زائد دکانیں اور کروڑوں کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا۔ عمارت کی بالائی منزل پر موجود رہائشی فلیٹس کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ ریسکیو حکام کے مطابق آگ سے عمارت کا گراؤنڈ اور میز نائن فلور اتنا زیادہ متاثر ہوا ہے کہ اس عمارت کے منہدم ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہو چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں کراچی میں یہ تیسرا بڑا آتشزدگی کا واقعہ ہے۔ کراچی میں ہر سال تقریباً دو ہزار سے زائد آتشزدگی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ 2020ء میں کراچی میں آتشزدگی کے دو ہزار‘ 2021ء میں 2300اور 2022ء میں 2081واقعات رونما ہوئے۔ گزشتہ مہینے ہی یہ انکشاف ہوا تھا کہ کراچی میں 90فیصد سے زائد رہائشی‘ تجارتی اور صنعتی عمارتوں میں آگ سے بچاؤ اور آگ بجھانے کا نظام سرے سے ہی نصب نہیں ہے۔ صرف کراچی ہی نہیں‘ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی کثیر المنزلہ عمارتیں بناتے ہوئے آگ بجھانے کا نظام نصب نہیں کیا جاتا جو کہ بلڈنگ کوڈ آف پاکستان کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اگر ہر عمارت میں آگ سے بچاؤ کا نظام موجود ہو تو ایسے ناخوشگوارواقعات میں نقصان کی شرح میں نمایاں کمی یقینی ہو سکتی ہے۔ضروری ہے کہ متعلقہ حکام ہر عمارت میں آگ بجھانے کی نظام کی تنصیب یقینی بنوائیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement