پاک ترک تعلقات اور دو طرفہ تجارت
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے دورۂ پاکستان کے موقع پر دونوں ممالک میں دفاع‘ تجارت‘ بینکنگ اور سرمایہ کاری سمیت متعدد شعبوں میں 24نئے معاہدے اور مفاہمت کی یادداشتیں طے پانے سے دونوں ملکوں کے دیرینہ تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہونے کی امید ہے۔ ترک صدر طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ملکوں کے مابین تجارتی حجم پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کے عزم کا بھی اظہار کیا تاکہ برادرانہ تعلقات سے دونوں ملک فائدہ اٹھاسکیں۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات تاریخی‘ ثقافتی اور مذہبی بنیادوں پر استوار ہیں۔ ان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے 2009ء میں اعلیٰ سطحی تزویراتی تعاون کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا جو دونوں ممالک کے درمیان دفاع‘ ثقافت‘ تجارت اور سرمایہ کاری سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا اہم پلیٹ فارم ہے۔ یہ کونسل دونوں ممالک کے مابین باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے علاوہ سیاسی‘ اقتصادی‘ دفاعی‘ تجارتی اور ثقافتی روابط کو مزید مستحکم کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ ترکیہ ان چنیدہ ممالک میں شامل ہے جو عالمی سطح پر مسلم دنیا کے سفارتی اور اخلاقی دفاع میں ہمہ وقت مستعد رہتے ہیں اور اس لحاظ سے پاکستان اور ترکیہ قدرتی اتحادی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو برادرانہ ممالک کی سطح پر رکھتا ہے اور اب یہ تعلقات معاشی اور دفاعی میدانوں میں بھی تیزی سے آگے بڑھتے نظر آ رہے ہیں۔ پاک ترک دو طرفہ تجارت میں توسیع کی خاصی گنجائش موجود ہے اور پاکستان اور ترکیہ کے درمیان سڑک‘ ریل‘ بحری اور فضائی روابط کو بہتر بنانے پر بھی کام کیا جا رہا ہے جبکہ ’اسلام آباد، تہران، استنبول (ITI) روڈ کوریڈور‘ کی بحالی کے لیے بھی مشترکہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکے مگر اس کے باوجود دونوں ممالک میں دوطرفہ تجارت کا حجم خاصا محدود ہے اور اس میں بڑھوتری کے بجائے کمی ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر 2011ء میں ترکیہ کو پاکستانی برآمدات کا مالیاتی حجم 75کروڑ 60 لاکھ ڈالرتھا مگر پھر پاکستانی برآمدات کا حجم ہر سال کم ہوتا چلا گیا اور گزشتہ مالی سال ترکیہ کے لیے پاکستانی برآمدات 29 کروڑ 88 لاکھ ڈالر رہیں‘ جبکہ ترک درآمدات کا حجم بھی گھٹ کر 24 کروڑ 46 لاکھ ڈالر ہو گیا۔ مالی سال 2022ء میں دونوں ممالک کا دوطرفہ تجارتی حجم 88کروڑ 33 لاکھ ڈالر تھا‘ جسے بڑھا کر پانچ ارب ڈالر کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا مگر گزشتہ مالی سال یہ مزید گھٹ کر 54 کروڑ 34 لاکھ ڈالر ہو گیا۔ گزشتہ برسوں کے دوران مضبوط سفارتی روابط کے باوجود دو طرفہ تجارت میں یہ حیران کردینے والی تبدیلی کیونکر ہوئی‘ اس کے پیچھے کارفرما محرکات کا تعین کیے بغیر دو طرفہ تجارتی حجم کو نہیں بڑھایا جا سکتا۔ پاکستان کو ان سوالات کا بھی جواب تلاش کرنا چاہیے کہ ہماری برآمدات گزشتہ ایک‘ ڈیڑھ دہائی میں ساڑھے سات سو ملین ڈالر سے کم ہو کر دو سو نوے ملین ڈالر تک کیسے آگئیں؟ کیا پاکستانی برآمدات کو ترکیہ میں معیار اور قیمتوں کی مسابقت کا سامنا ہے یا پالیسی کی سطح پر مشکلات درپیش ہیں۔ اعلیٰ حکومتی سطح پر دونوں ملکوں میں تجارت کے فروغ کے لیے ان نکات پر بھی ضرور غور کرنا چاہیے۔ جہاں تک ترک صدر کے دورے کے باہمی تعلقات پر اثرات کی بات ہے تو ترک صدر پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہیں اور پاکستان ترکیہ کو اپنا برادر ملک تصور کرتا ہے۔ اس حوالے سے دونوں ملکوں میں مکمل اتفاقِ رائے ہے اور پاکستان قبرص کے معاملے پر ترک عوام اور ترکیہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی کُلی حمایت کرتا ہے۔ اسی قسم کا تعاون تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبے میں بھی نظر آئے تو پاک ترک دوستی کو زیادہ استحکام نصیب ہو گا۔