اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

زرعی بحران

رواں مالی سال کے دوران زرعی نمو میں نمایاں گراوٹ تشویش کا باعث ہے۔ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران زرعی شعبے کی نمو 1.1 فیصد رہی جو گزشتہ سال کے اسی دورانیے میں 5.8فیصد تھی۔ ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی شہرت کا حامل زرعی شعبہ حالیہ چند برس سے حکومتی تختہ مشق بنا ہوا ہے اور اس کا نتیجہ زرعی پیداوار میں کمی کی صورت میں سامنے آ رہا۔ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں اہم فصلوں کی پیداوار میں 7.7 فیصد کمی واقع ہوئی۔ کپاس کی پیداوار تقریباً 31 فیصد کمی کے ساتھ 71 لاکھ گانٹھ رہ گئی۔ چاول کی پیداوار میں 1.4 فیصد کمی واقع ہوئی ۔حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت کا تعین نہ ہونے سے گندم کی کاشت کی حوصلہ شکنی ہوئی اور اس کے نتیجے میں اس سال گندم کی پیداوار میں11 فیصد کمی کا امکان ہے ۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق اس سال گندم کی پیداوار 27.9 ملین ٹن متوقع ہے۔ گزشتہ سال ملک میں 31.4 ملین ٹن گندم پیدا ہوئی مگر گزشتہ برس گند م کے کاشتکاروں نے جس استحصالی صورتحال کا سامنا کیا اس کے نتیجے میں گندم کی کاشت کے رجحان میں کمی قدرتی امر ہے۔ رواں سال خشک سالی نے بھی زراعت پر منفی اثر ڈالا ہے تاہم حکومتی پالیسیوں کے منفی اثرات ملکی زراعت پر قدرتی تبدیلیوں کے اثرات سے کہیں بڑھ کر ہیں اور زراعت بلا شبہ بحرانی حالت میں ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00