عید مبارک!
عالم اسلام پر ہلالِ عید ایسے عالم میں طلوع ہوا ہے جب مشرق سے مغرب تک‘ مسلم دنیا داخلی بکھیڑوں اور خارجی چیلنجوں سے نبرد آزما ہے۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا بجھتا ہوا الائو دوبارہ دہکنے لگا ہے تو دوسری جانب پاکستان سمیت کئی ممالک داخلی خلفشار اور دہشت گردی کے سنگین مسئلے سے دوچار ہیں۔ دنیا کی متغیر صورتحال‘ موسمیاتی تبدیلیوں‘ آبی قلت‘ مہنگائی‘ بیروزگاری اور افراتفری سے عام آدمی بھی بے حال ہے۔ بظاہر حالات مایوس کن نظر آتے ہیں مگر ایسے میں رب العالمین کا یہ فرمان دلوں کو منور کر دیتا اور راہوں کو جگمگا دیتا ہے کہ ’’یقینا ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے‘ اور بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے‘‘۔ اگر پاکستان کے داخلی حالات کی بات کریں تو کچھ شک نہیں کہ موجودہ حالات میں ’آسانی‘ کا پہلو مل بیٹھ کر معاملات طے کرنے اور مذاکرات کرنے میں پنہاں ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ ہو‘ دہشت گردی کا عفریت ہو یا دیگر قومی مسائل‘ جو پیچیدہ صورت اختیار کر چکے ہیں‘ ان مسائل کا حل اتحاد ویگانگت اور قوتِ اخوتِ عوام سے نکالا جا سکتا ہے۔ دلوں کی کدورتیں‘ نفرتیں اور باہمی رنجشیں ختم کرنے کے لیے عید سے بہتر موقع کیا ہو سکتا ہے جو گلے شکوے ختم کرنے‘ دکھ درد بانٹنے اور محبتیں بڑھانے کا تہوار ہے۔ رمضان المبارک کے ماہِ مقدس میں تزکیۂ نفس کی جو تربیت لی ہے‘ اس کا اظہار اگر عملی رویوں میں بھی نمایاں طور پر نظر آئے تو ہی یہ روزِ عید سعید وبابرکت ہو سکتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ذاتی اَنا کو تیاگ کر‘ گروہی وانفرادی مفادات سے اوپر اٹھ کر اجتماعی وقومی معاملات کو اولیت دی جائے۔ قومی رہنما یہ کام مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنا کر سکتے ہیں جبکہ عوام اپنے اردگرد ضرورت مندوں اور محتاجوں کو اپنے ساتھ عید کی خوشیوں کا شریک بنا کر طمانیت قلبی حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر عالمی منظر نامے کی بات کی جائے تو اسرائیل کی جانب سے غزہ پہ دوبارہ بمباری سے مشرقِ وسطیٰ کے پُرامن مستقبل کے روشن امکانات دھندلا گئے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر اس معاملے کو فوری طور پر یہیں نہ روکا گیا اور اس بجھتے ہوئے الائو کو اسرائیل کی جانب سے ہوا دینے کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو یہ معاملہ بڑھتے بڑھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اب معاملہ اسرائیل کی زبانی مذمت کی حدود سے نکل چکا ہے۔ دنیا پر عیاں ہو چکا کہ صہیونی ریاست قیامِ امن کی کوششوں کو کس طرح سبوتاژ کر رہی ہے۔ ضروری ہے کہ عالمی برادری اپنی پچھلی غلطیوں کا کفارہ ادا کرتے ہوئے اب اسرائیل کو سخت پیغام دے اور مظلوم فلسطینیوں سے بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا جائے۔ لازم ہے کہ اقوامِ متحدہ سمیت تمام عالمی پلیٹ فارمز اس مقصد کے لیے بروئے کار لائے جائیں اور اقوامِ عالم کو مظلوم فلسطینیوں سے کیا گیا ان کا وعدہ یاد دلایا جائے۔ فلسطین ہی کی طرح مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھی انسانیت سوز ریاستی مظالم کا شکار ہیں۔ مودی سرکار کے مظالم کا سلسلہ اب بھارتی مسلمانوں تک وسیع ہو گیا ہے اور وقف ترمیمی بل کی آڑ میں مودی حکومت مسلمانوں کو ان کی املاک سے بھی محروم کر دینا چاہتی ہے۔ مسلم آبادیوں پر حملے‘ مساجد کو مسمار کرنا اور مسلمانوں کے خلاف نسلی عصبیت اب بھارت کا معمول بن چکی ہے۔ بھارت کی سب سے بڑی اقلیت کو جس انسانیت سوز سلوک کا سامنا ہے‘ عالمی برادری اس پر بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور اسلامی تعاون تنظیم کے ستاون رکن ملک کسی مؤثر ردعمل سے قاصر نظر آتے ہیں۔ عیدالفطر کی ان مبارک ساعتوں کے موقع پر دعا ہے کہ مسلم حکمران تغیر پذیر دنیا کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی ممالک کی تنظیم کو فعال اور مضبوط بنائیں‘ باہمی روابط مستحکم کریں اور دنیا کو درپیش مسائل جیسے کساد بازاری‘ قحط سالی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے لیے بھی کوئی مشترکہ لائحہ عمل بنائیں اور ان کاوشوں کو مؤثر بنانے کی سعی کریں۔