اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

جدید زراعت کی اہمیت

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ ہمیں روایتی فصلوں سے آگے بڑھ کر زیادہ منافع بخش فصلوں کی طرف توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ دنیا بھر میں زراعت کے شعبے میں جدت کی دوڑ جاری ہے۔ ترقی یافتہ ممالک جدید ٹیکنالوجی‘  معیاری بیجوں اور مؤثر زرعی طریقوں کے ذریعے کم رقبے سے زیادہ پیداوار اور زیادہ منافع حاصل کر رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں آج بھی توجہ چاول‘ گندم‘ کپاس اور گنے جیسی روایتی فصلوں پر مرکوز ہے‘ جو اَب کسان کیلئے اتنی منافع بخش نہیں رہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کسانوں کو دیگر منافع بخش فصلوں کے حوالے سے مناسب تربیت اور تکنیکی رہنمائی فراہم نہیں کی جاتی۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کینولا کی کاشت کی تجویز دے کر درست سمت نشاندہی کی ہے۔ کینولا ایک ایسی تیل دار فصل ہے جس کی مقامی اور بیرونی منڈیوں میں خاصی طلب ہے اور جس کے ذریعے خوردنی تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ سورج مکھی‘ سویا بین‘ تل اور دالوں کی فصلیں بھی خاصی منافع بخش ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر کسانوں کو تکنیکی رہنمائی‘ جدید زرعی ٹیکنالوجی اورمعیاری بیج فراہم کیے جائیں تو وہ یقینا زیادہ منافع بخش متبادل فصلوں کی طرف راغب ہوں گے۔غذائی اجناس کی ویلیو ایڈیشن سے بھی کسان کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے‘ لیکن یہ سب حکومتی عزم اور سنجیدگی کے بغیر ممکن نہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں