اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

چینی بحران

چینی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا ہے اور ملک کے مختلف شہروں میں فی کلو چینی 220 روپے کی ہو چکی ہے۔ ایک سال قبل چینی 132 روپے فی کلو میں دستیاب تھی اور ملک میں اس کا وافر سٹاک موجود تھا مگر جب حکومت نے شوگر ملز مالکان کو 12 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تو اس کے بعد سے چینی بحران نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ پہلے مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمت بڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر قلت پیدا ہونے لگی۔ وفاقی کابینہ نے چینی بحران پر قابو پانے کی خاطر جولائی میں پانچ لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے جبکہ اس مد میں ٹیکسوں پر رعایت دینے کا بھی فیصلہ کیا مگر چینی کی درآمد کے باوجود قیمت میں کمی نہ آ سکی۔

رواں سال سیلاب کے باعث گنے کی کرشنگ کو بھی اکتوبر کے بجائے 20 نومبر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا‘ اس وجہ سے بھی چینی کا بحران سنگین ہوا اور تیار فصل کے باوجود عوام کو مہنگی درآمدی چینی خریدنا پڑ رہی ہے۔ دیکھا جائے تو اس سارے بحران سے ایک مخصوص طبقے نے فائدہ اٹھایا اور اس کا سبب ایک غلط انتظامی فیصلہ تھا‘ جس کی بنیاد کمزور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تھا۔ مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت شوگر ملوں کے پیش کردہ اعداد و شمار پر انحصار کے بجائے اپنے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو مؤثر بنائے۔ چینی بحران کے بعد اب کرشنگ سیزن کو مزید مؤخر کرنا درست نہیں‘ اس حوالے سے فوری فیصلہ کرنا چاہیے۔ نیز مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر سے نمٹنا بھی از حد ضروری ہے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں