اساتذہ کی تعلیمی اہلیت کا سوال
محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے سرکاری سکولوں میں 14ہزار سے زائد اساتذہ کی کل تعلیم میٹرک جبکہ نو ہزار سے زائد کی انٹر میڈیٹ ہے۔ سرکاری اساتذہ کی کم تعلیمی اہلیت صوبے کے تعلیمی نظام پر ایک سوالیہ نشان اور فوری حکومتی توجہ کی متقاضی ہے۔اس جدید دور میں جب علم‘ تحقیق اور فنی مہارتوں کے طریقہ کار تیزی سے بدل رہے ہیں‘ معمولی سطح کی تعلیمی اہلیت کے حامل اساتذہ سے معیاری تعلیم کی توقع خود فریبی ہے۔ نوجوان نسل کو دورِ جدید کے علوم‘ تنقیدی سوچ‘ سائنسی شعور اور عملی مہارتوں سے آراستہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اساتذہ اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ باشعور اور زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ مگر ہمارے ہاں نہ تو اساتذہ کی تعلیمی اہلیت کو سنجیدگی سے جانچا جاتا ہے اور نہ ہی انکی پیشہ ورانہ تربیت کی کوئی مؤثر حکمتِ عملی نظر آتی ہے۔

کم تعلیم یافتہ اور غیر تربیت یافتہ اساتذہ بچوں کی تعلیمی بنیادوں کی کمزوری کا بڑا سبب ہیں۔ ایسے اساتذہ نہ صرف نصاب کو مؤثر طریقے سے سمجھانے میں ناکام رہتے ہیں بلکہ طلبہ میں تخلیقی سوچ‘ سوال کرنے کی صلاحیت اور خود اعتمادی بھی پیدا نہیں کر پاتے۔ اسلئے اساتذہ کی بھرتی کے معیار پر ازسرِنو غور کیا جانا چاہیے اور کم از کم گریجویشن بلکہ تدریسی مضامین میں اعلیٰ تعلیم کو لازم قرار دینا چاہیے۔ موجودہ اساتذہ کیلئے جدید تدریسی طریقوں کی تربیت‘ ٹیکنالوجی کے استعمال اور مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کے پروگرام ناگزیر ہیں تاکہ سرکاری سکولوں میں معیارِ تعلیم کو بہتر بنایا جا سکے۔