سانحہ گل پلازہ کا سبق
گل پلازہ میں آتشزدگی ایسا قومی سانحہ ثابت ہوئی ہے جس نے شہری منصوبہ بندی کے نظام‘ ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیتوں اور حرص و ہوسِ زر کی روش کو عیاں کر کے رکھ دیا ہے۔ تادمِ تحریر پلازے سے 60 لاشیں نکالی جا چکیں جبکہ بیسیوں افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ یہ حقیقت بھی واضح ہو چکی کہ آگ لگنے کے وقت پلازے میں سو کے قریب افراد محصور تھے مگر عوامی غفلت‘ ادارہ جاتی نااہلی‘ ناقص منصوبہ بندی اور سست ردِعمل کے باعث یہ حادثہ کثیر جانی ومالی نقصان کا سبب بنا۔ انسانی جانوں کے نقصان کا مداوا نہیں ہو سکتا مگر اس سانحے کو آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کیلئے ایک مثال اور عبرت بنایا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے شہری منصوبہ بندی پر توجہ دینا ہو گی۔ بااختیار بلدیاتی اداروں کی فعالیت اور چھوٹے انتظامی یونٹس کی اہمیت اس سانحے نے ایک بار پھر اجاگر کی ہے۔ آج اسلام آباد‘ کراچی‘ لاہور‘ پشاور اور کوئٹہ سمیت تمام بڑے شہروں میں بلند وبالا عمارتوں کی بھرمار ہے اور ہر جگہ ایسے حادثات کے اندیشے بکثرت موجود ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں لاہور میں الیکٹرانکس مارکیٹ اور اسلام آباد میں شاپنگ مال میں آتشزدگی کے بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ دو روز قبل کوئٹہ میں ایک کثیر المنزلہ پلازہ آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا‘ جس میں 200 سے زائد دکانیں جل گئیں۔ آئے دن ایسے واقعات اس امر کے غماز ہیں کہ منصوبہ بندی اور حفاظتی اقدامات کے بغیر بنی ہوئی بلند وبالا عمارتیں موت کے کنویں کی مانند ہیں۔ ریسکیو اور شہری اداروں کی کارکردگی اپنی جگہ مگر ہر عمارت کے اندرونی حفاظتی نظام کا فعال ہونا بھی ضروری ہے۔ سانحہ گل پلازہ سے حاصل کردہ سبق یہی ہے کہ کثیر المنزلہ عمارات‘ کمرشل پلازوں اور عوامی دفاتر کی جگہوں پر فعال ایمرجنسی ایگزٹ‘ سموک ڈیٹیکٹرز اور واٹر سپرنکلر سسٹم کی تنصیب کو بہرصورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں آتشزدگی کے بیشتر واقعات شارٹ سرکٹ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ لہٰذا بڑی عمارتوں کے الیکٹریکل نظام کا سخت آڈٹ ہونا چاہیے۔
یہ سانحہ متقاضی ہے کہ حکومتیں روایتی نوٹس لینے یا رپورٹ طلب کرنے سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں۔ بلند عمارتوں کے نقشوں کی منظوری کے وقت جو سیفٹی پلان منظور کرائے جاتے ہیں‘ محکمانہ طور پر ان پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے۔ بڑے کمرشل پلازوں اور عمارتوں کو ریسکیو اداروں کے سینٹرل سسٹم سے منسلک کیا جائے تاکہ ہنگامی حالات میں خودکار طریقے سے اطلاع متعلقہ اداروں تک پہنچ جائے۔ حالیہ سانحے میں کثیر جانی نقصان کی ایک بڑی وجہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی عدم صلاحیت تھی۔ اس حوالے سے تعلیمی اداروں‘ دفاتر اور کمرشل عمارتوں میں ’فائر ڈرلز‘ کرائی جانی چاہئیں۔ فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کو فوجداری جرم قرار دینے اور کسی عمارت میں آتشزدگی کی صورت میں ناقص انتظامات کے ذمہ داران کیخلاف سخت تادیبی کارروائی سے بھی ایسے واقعات کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
سانحہ گل پلازہ یہ تنبیہ ہے کہ انسانی غفلت کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔ جب چھوٹی چھوٹی خرابیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو وہ مل کر بہت بڑی تباہی کا روپ دھار لیتی ہیں۔ ہمیں بحیثیت قوم یہ عہد کرنا ہوگا کہ شہروں کو صرف کنکریٹ کے جنگل نہیں بنانا بلکہ انہیں انسانی زندگیوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بھی بنانا ہے۔ اس کیلئے تعمیر و ترقی میں انسانی تحفظ کو اولین ترجیح دینا ہو گی۔ گل پلازہ جیسے سانحے ملکوں کی پالیسیوں اور فیصلہ سازی پر انمٹ اثر ڈالتے ہیں۔ ایسے ہولناک واقعات کی یادیں مدتوں عوامی حافظے سے محو نہیں ہوتیں۔ جن کے پیارے اس المناک سانحے کی نذر ہو گئے ان کیلئے تو یہ عمر بھر کا روگ بن گیا مگر دیگر اہلِ وطن بھی ایسے واقعات کے بعد خود کو غیر محفوظ سمجھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اگر اس دلدوز سانحے کے بعد بھی ہماری پالیسیاں‘ عملدرآمد اور اقدامات کی روش تبدیل نہ ہوئی تو اس سے بڑا سانحہ کیا ہو گا۔