وائلڈ لائف قوانین پر عملدرآمد
اگلے روز لاہور میں ایک شیر کے حملے سے آٹھ سالہ بچی کے زخمی ہونے کا واقعہ انتظامی غفلت اور قانون کی عملداری پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ خبروں کے مطابق ایک شہری نے رہائشی علاقے میں غیرقانونی طور پر شیر پال رکھا تھا جسے وہ رکشے کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہا تھا کہ بے قابو ہو کر شیر نے کمسن بچی پر حملہ کر دیا۔ گزشتہ روز ہی لاہور کے علاقے نواں کوٹ میں ایک فیکٹری پر چھاپہ کے دوران غیرقانونی طور پر رکھے گئے دس شیر بھی برآمد کیے گئے۔ گزشتہ برس جولائی میں لاہور میں ایک شیر کے حملے میں تین شہریوں کے زخمی ہونے کے بعد صوبائی حکومت نے گھروں میں جنگلی جانور پالنے کی پابندی پر سختی سے عملدرآمد کا اعلان کیا تھا مگر حالیہ واقعات اس امر کا ثبوت ہیں کہ نہ صرف خطرناک جنگلی جانور گھروں میں پالے جانے کا سلسلہ جاری ہے بلکہ یہ سب کچھ کھلے عام ہو رہا ہے۔

اگر ماضی میں ایسے واقعات پر مؤثر کارروائیاں کی جاتیں تو آج لاہور جیسے گنجان آباد شہر میں درندے شہریوں پر حملہ آور نہ ہو رہے ہوتے۔ جنگلی جانوروں کو رہائشی علاقوں میں رکھنا نہ صرف غیر قانونی بلکہ براہِ راست عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ محض جانور ضبط کرنا یا معمولی جرمانہ کافی نہیں‘ ضروری ہے کہ ایسے افراد کے خلاف سخت اور مثال قائم کرنے والی کارروائی عمل میں لائی جائے۔