محاورہ نہیں بلکہ پرانے زمانوں سے قائم ایک پختہ روایت یہ رہی ہے کہ جن کی لاٹھیاں مضبوط تھیں اور انہیں چلانے کا ہنر جانتے تھے‘ ایک نہیں‘ سب بھینسوں کے بلا شرکت غیرے مالک وہ بن گئے۔ طاقت‘ اختیار اور زمین اور اس کی مخلوق پر قابض اور ملکیت کے حق دار ہمیشہ طاقتور لوگ‘ طبقات اور مالک رہے ہیں۔ جب لاٹھیاں کسی نے توڑ ڈالیں یا انہیں زوال کی دیمک کھوکھلا کر گئی تو اُن کی ملکیتوں کے وارث کوئی اور بن گئے۔ اگر کسی فرد اور اجتماعی گروہ‘ وہ جس بھی سیاسی حیثیت میں اپنا وجود رکھتا تھا‘ اس نکتے کو سمجھ گیا‘ وہ کم از کم باعزت زندگی گزارنے کے قابل رہا۔ معاشرہ ہو یا عالمی نظام میں طاقت کے توازن کا ماحول‘ لاٹھی کا سہارا انتہائی اہم ہے۔ ہماری تو اب ایک عادت سی بن چکی ہے۔ جنگلات اور دیہات میں اس اصول کی یاددہانی کے لیے ہاتھ میں ایک کمزور سی لاٹھی ضرور رکھتے ہیں۔ یہ بات اشارۃً عرض ہے کہ اگر وسائل نہیں‘ علم نہیں‘ ہنر نہیں اور دولت کمانے کا کوئی وسیلہ کسی فرد یا گروہ کے لیے نہیں تو لوگوں کو عاجزی کی زندگی گزارتے دیکھا ہے۔ یہی حال قوموں کا ہے۔ اگر وہ سب کچھ جو افراد کو عاجزی سے بچنے کے لیے درکار ہے‘ انہوں نے اُن اسباب پر توجہ نہیں دی تو محتاجی‘ کاسہ لیسی اور دوسروں پر انحصار اُن کا مقدر بن جاتا ہے۔ قوموں اور ریاستوں کے لیے ہر نوع کے گرداب سے نکلنے کے راستے بھی نکل آتے ہیں‘ اور قدرتی وسائل میں کمی بھی ہو تو مدبر اور دیدہ ور قیادت انہیں کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔
یہ خطہ جس کا ہم مانیں یا نہ مانیں‘ ہزاروں سالوں سے حصہ رہے ہیں‘ دنیا کا امیر ترین خطہ تھا۔ شمال اور مغرب سے حملہ آور صرف اور صرف اس کی امارت کو لوٹنے کی غرض سے حملے کرتے رہے کہ یہاں ایک ملک عہد حاضر کی ریاستوں کی طرح موجود نہیں تھا‘ بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں راجے اور مہاراجے اس کے مختلف حصوں پر حکومتیں کرتے تھے۔ وہ بھی آپس میں لاٹھی اور بھینس کے فارمولے پر عمل کرتے تھے۔ باہر کے حملہ آوروں نے یہاں ایک عرصہ تک حکومتیں کیں‘ اور جب تک اُن کی لاٹھی مضبوط تھی‘ وہ اپنی حفاظت مخالف طالع آزمائوں کے خلاف کرتے رہے۔ جب دوسری لاٹھیاں مضبوط ہو گئیں تو پھر سب کچھ اُن کے ہاتھوں سے نکل گیا۔
یہاں دو مثالیں آپ کی نذر کرتا ہوں۔ قیادت محب وطن اور عوام دوست ہو تو قوموں کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ سنگاپور ہماری زندگیوں میں ایک مفلوک الحال‘ پسماندہ اور ہمارے کچے کے ڈاکوئوں کی مانند ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ایک یرغمال علاقہ تھا۔ لی کوآن یو کی قیادت اور پیش نظری نے سب کچھ بدل دیا۔ اپنے ایک انٹرویو میں جب اُس سے پوچھا گیا کہ آخر ان ڈاکوئوں اور لٹیروں کا پھر کیا بنا تو اس نے کہا کہ وہ کسی کو نہ تجارت کرنے دیتے تھے اور نہ کسی کی سرمایہ کاری محفوظ تھی۔ جب قانون کی طاقت اور ادارے مضبوط کیے تو وہ سب انصاف کی گرفت میں آ کر معاشرے سے الگ کر دیے گئے۔ ڈاکو صرف ہمارے کچے کے دور افتادہ علاقوں میں ہی نہیں پنپتے‘ ہمارے شہروں میں جو مافیا ہیں او ر وہ جو اختیار کے لبادے میں لوٹ مار کرتے ہیں‘ وہ بھی تو ریاستوں اور معاشروں کو کمزور کرتے ہیں۔ یہ درویش سیاست اور ریاست کے مطالعہ‘ جو پوری زندگی پر محیط ہے‘ سے کوئی ایک چیز اگر سمجھ پایا ہے تو وہ یہ ہے کہ جو قومیں آگے نکلتی ہیں‘ اور جو کمزور ہوں تو ان کا حال وہی ہوتا ہے جس دور سے ہم کئی دہائیوں سے گزر رہے ہیں‘ ان میں فرق قانون اور انصاف کی مضبوط لاٹھی کا ہے۔ سنگاپور نے اسی لاٹھی کے سہارے وہ ماحول پیدا کیا جو اُسے زمین سے اٹھا کر آسمان کی طرف لے گیا۔ اس کے مقابلے میں آپ افریقہ کے دو ملکوں کو اُسی دور کی تاریخ میں دیکھیں‘ سوڈان اور نائیجیریا۔ دونوں قدرتی وسائل‘ آبادی‘ زمین‘ پانی‘ پہاڑ اور وسعت کی دولت سے مالا مال ہیں‘ مگر قیادتوں کے درمیان رقابت‘ کرپشن اور قانون وانصاف کی کمزور گرفت نے سب کچھ ضائع کر دیا۔ آج کل ان کے حالات کے بارے میں پڑھ کر بہت سی حقیقتیں ریاست اور سیاست کے بارے میں کھل کر سامنے آ جاتی ہیں۔
مغرب کی عصرِ حاضر کی ریاستیں ہوں یا ان کا عروج اور ہمارے خطے پر برطانیہ کی حکومت کی کہانی‘ ان کی طاقت یا لاٹھی کا بنیادی مادہ یا میٹریل قانون اور انصاف کی فراہمی تھا‘ جسے آپ صرف عدالتوں تک محدود نہیں کر سکتے۔ جب قانون اور انصاف کی بات کرتا ہوں تو یہ وسیع تر معنوں میں ہے‘ جو میرے خیال میں ان کی اصلیت اور حقیقت بھی ہے۔ قانون عام ہو یا آئین کی صورت میں ہو‘ جائزیت اور جوابدہی کا اصول قائم کرتا ہے۔ اقتدار کے حصول کا جواز بھی پیدا کرتا ہے اور اس کو استعمال کرنے کی حدود وقیود کے ساتھ ذمہ داری بھی قرار دیتا ہے۔ اگر یہ لاٹھی مضبوط ہو جس کی اعلیٰ مثال لی کوآن یو کی ہے‘ تو عالمی سطح پر بھی آپ کی آواز‘ حیثیت اور احترام وآزادی میں فیصلہ کن اضافہ ہوتا ہے۔ ہمارے زوال (بلکہ ہمارے کچھ مبصرین تو یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ آپ کے خیال میں عروج کب تھا؟) کی داستان بہت سادہ اور غمگین ہے۔ جن کے پاس قانون کی حفاظت اور عمل داری کی ذمہ داری تھی‘ انہوں نے اپنے آپ کو اس کی گرفت سے آزاد کر لیا۔ یہاں آپ سے معذرت کا خواستگار ہوں کہ جو کچھ گزشتہ چوالیس سالوں سے یہاں ہوتا رہا ہے‘ اُس کے لیے کوئی مثال یہاں نہیں دے سکتا۔ ضرورت ہی کیا ہے‘ اس شارے سے آپ سمجھ گئے ہوں گے۔
ہم تمام تر ترقی کے باوجود بین الاقوامی قانون کی موہومیت کے اندھیروں میں ریاستوں کی جغرافیائی اور سیاسی اکائیوں کی صورت میں رہتے ہیں۔ سامراجی دور سے لے کر آج تک لاٹھی اور بھینس کی دنیا قائم ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کچھ ادوار میں یہ لاٹھی ملائم ریشم میں ملفوف تھی اور کبھی مکمل طور پر ننگی۔ آج کل اس کے سب لبادے اتر چکے ہیں۔ غزہ میں نسل کشی سے لے کر ایران پر حملے اور جو کچھ ہم دنیا کے مختلف حصوں میں ہوتا دیکھ رہے ہیں‘ ہمارا لاٹھی پر اعتقاد قانون‘ انصاف اور ثقافت کے وسائل سے لے کر اس کی نوکدار آہنی مضبوطی پر مزید بڑھ گیا ہے۔ پہلے بھی سیاست اور ریاست کے ابتدائی سبق سے کوئی کم نہ تھا کہ ہم قانون کی یکطرفہ حیثیت اور اس کے صرف کمزور ملکوں پر نفوذ کی حقیقت سے واقف تھے۔ تاریخ سے سبق سیکھنا ہو‘ جس کا حوالہ یہ درویش بار بار دیتا ہے کہ یقین نہیں کہ ہمارے حکمران ٹولے تاریخ سے آگاہی رکھتے ہیں یا ذاتی طور پر اُس سے کوئی روشنی حاصل کرنے کی صلاحیت‘ تو وہ یہ ہے کہ آہنی لاٹھی اندرونی طور پر قانون اور انصاف کو مضبوط کیے بغیر ناقابلِ تسخیر قالب میں نہیں ڈھل سکتی ہے۔ باقی سب کہانیاں ہم سنتے رہے ہیں‘ اب ان کی طرف دھیان کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ ہماری سیاست اور ریاست میں ذاتی دلچسپی تاریخ کی محتاج ہے۔ سامنے گزرتے ہوئے حالات موسمی بادلوں کے ٹکڑوں کی طرح ہوتے ہیں جو ہوا کے دبائو کے ساتھ کبھی غائب تو کبھی نظر آتے ہیں۔ موسمی سیاستدان مقررہ اصولوں اور پیٹرن کو ذہن میں رکھیں۔ اگر آپ کا ذہن اور آنکھیں بند ہیں تو بے شک رکھیں‘ ہمیں کیا غرض۔ اگر لاٹھی اور بھینس کا کھیل معاشروں میں قائم ہو جائے تو ہم کمزور لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہماری طرف سے خدا حافظ! ہم جنگل کا رخ کرتے ہیں۔