بورڈ آف پیس، امیدیں اور توقعات
عالمی امن‘ ثالثی اور اتحاد؛ پاکستان کی خارجہ پالیسی روزِ اول سے انہی نکات پر مدار کرتی آئی ہے۔ حالیہ برسوں میں طاقت کے بدلتے توازن اور مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے دنیا کو ایک نئی سرد جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں جہاں پاکستان کی سفارتی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے وہیں ان معاملات کی حساسیت بھی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ نازک سفارتی معاملات کے حوالے سے پاکستان کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ فیصلہ خواہ کچھ تاخیر سے کیا جائے مگر خوب غور و خوض اور دوست ممالک سے باہمی مشاورت کے بعد کیا جائے۔ گزشتہ روز سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان کی بورڈ آف پیس میں باقاعدہ شمولیت بھی ایک ایسا ہی سوچا سمجھا فیصلہ معلوم ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ برطانیہ‘ فرانس‘ کینیڈا‘ اٹلی اور جرمنی جیسی بڑی عالمی طاقتوں نے اس فورم کی مخالفت کی ہے مگر دوسری جانب یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ مصر‘ قطر‘ بحرین‘ ترکیہ‘ مراکش‘ قازقستان‘ ازبکستان‘ انڈونیشیا اور آذربائیجان جیسے مسلم ممالک نے اس فورم میں شمولیت اختیار کی ہے۔ لہٰذا یہ اعتراضات کہ اس سے فلسطین کاز کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے یا یہ کہ اس فورم کو مغربی لابی اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کرے گی‘ حقیقت سے بعید معلوم ہوتے ہیں۔ پاکستان‘ سعودی عرب‘ یو اے ای‘ ترکیہ اور انڈونیشیا جیسے بااثر اور طاقتور مسلم ممالک یقینا اس فورم میں مسلم نمائندگی کا حق ادا کریں گے اور ان کے ہوتے ہوئے کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہو سکے گا جس سے مسلم ورلڈ کے متفقہ مؤقف کی نفی ہوتی ہو۔ بورڈ آف پیس کے چارٹر کے مطابق اس میں شامل ہر ریاست تین برسوں کیلئے اس کی رکن ہو گی اور چیئرمین (صدر ٹرمپ) چاہے تو اس رکنیت کی تجدید بھی کر سکتا ہے۔

تاہم تین سالہ رکنیت کی شرط کا اطلاق ان ریاستوں پر نہیں ہو گا جو بورڈ آف پیس کے فنڈ میں ایک ارب ڈالر جمع کرائیں گی۔ گو کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ دونوں کیٹیگری والے ممبران کے اختیارات میں کیا فرق ہو گا‘ تاہم امید ہے کہ یہ معاملات جلد واضح ہو جائیں گے۔ دیکھا جا رہا ہے کہ بعض حلقے بورڈ آف پیس کو بین الاقوامی استحکام فورس سے خلط ملط کر رہے ہیں‘ حالانکہ بورڈ آف پیس اور انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ پاکستان نے بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت کی تاحال ہامی نہیں بھری اور حکومت یہ واضح کر چکی کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ پارلیمنٹ کے فورم پر کیا جائے گا۔ ناقدین کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بورڈ آف پیس ایک جامع اور ہمہ گیر فورم ہے‘ جس کا دائرہ کار صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی تنازعات کے حل اور عالمی امن واستحکام کو فروغ دینے کا فورم ہے۔ دوسری جانب فلسطین سے متعلق پاکستان کی پالیسی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے اور پاکستان نے ہر جگہ اس پالیسی کا اعادہ کیا ہے خواہ کوئی بھی فورم ہو۔
لہٰذا یہ سمجھنا کہ امن بورڈ میں شمولیت سے خارجہ پالیسی کی جہت تبدیل ہو جائے گی یا دیرینہ مؤقف میں تبدیلی آ سکتی ہے‘ عبث خیال ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس فورم پر بھی پاکستان فلسطین کا مسئلہ بھرپور طریقے سے اجاگر کرے گا اور دنیا کو باور کرائے گا کہ مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششیں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک کہ مسئلے کے بنیادی فریق یعنی فلسطینی قیادت کو اس میں شریک نہیں کیا جاتا۔ ایک جامع اور متفقہ حل ہی اس مسئلے کے سلجھائو کی راہ فراہم کر سکتا ہے۔ فی الوقت امن بورڈ سے متعلق خوش گمانی اور مثبت توقعات ہی وابستہ کی جانی چاہئیں اور اس کے عملی اقدامات کے بعد ہی اس سے متعلق کوئی ٹھوس رائے قائم کی جا سکتی۔ بدلتے عالمی حالات اور نئی ابھرتی ہوئی دنیا کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ ایک مناسب اور بروقت اقدام ہے۔