گیس حادثات اور حفاظتی اقدامات
گزشتہ روز اسلام آباد میں دو مختلف گیس سلنڈر حادثات میں مجموعی طور پر دس افراد جھلس گئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق دونوں واقعات کی بنیادی وجہ گیس کی لیکج تھی۔ ہمارے ہاں گیس سلنڈر حادثات اب ایک معمول بن چکے ہیں۔ چند روز قبل بھی اسلام آباد میں گیس لیکج کے سبب ہوئے دھماکے میں آٹھ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ سردی کے موسم میں شہری عموماً گیس کے چولہوں اور ہیٹرز کو مسلسل چلتا چھوڑ دیتے ہیں‘ جس سے حادثات کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ گزشتہ تین برس میں صرف صوبہ پنجاب میں گیس لیکج حادثات کے 480 سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں بیسیوں افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

اس حوالے سے جہاں شہریوں کو ازخود بھی احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے وہیں حکومت اور متعلقہ انتظامیہ کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے۔ رہائشی علاقوں میں قائم سلنڈر فلنگ سٹیشن سیل کرنے کے محض زبانی اعلانات کافی نہیں بلکہ اس حوالے سے سخت عملی اقدامات بھی کرنے چاہئیں۔ دوسری جانب مستقل نگرانی‘ سخت جرمانے اور عوامی آگاہی مہمات کا تسلسل بھی یقینی بنانا چاہیے۔ حفاظتی قوانین کی مؤثر عملداری‘ گیس سلنڈرز کی باقاعدہ چیکنگ اور عوامی شعوری مہمات ہی ایسے حادثات کی شرح میں کمی لا سکتی ہیں۔ ضروری ہے کہ شہری اور حکومت دونوں اس حوالے سے ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔ عوام کی جان و مال کی حفاظت اور حادثات سے بچاؤ کے لیے عملی اقدامات وقت کی ضرورت ہیں‘ جس طرف حکومت کو فوری توجہ دینی چاہیے۔