اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

خوش آئند فیصلہ

پنجاب کے مختلف شہروں میں پالتو شیروں کے شہریوں پر حملوں کے بڑھتے واقعات کے بعد حکومتِ پنجاب کا قانون سے پالتو شیر رکھنے کی شق ختم کرنے کا فیصلہ شہری تحفظ کے حوالے سے ایک صائب اقدام ہے۔ حکومتِ پنجاب نے گزشتہ برس وائلڈ لائف ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے گھروں میں شیر پالنے پر پابندی عائد کی تھی تاہم اس کیساتھ یہ رعایت دی تھی کہ شہری آبادی سے دورمحکمہ وائلڈ لائف کی طے کردہ شرائط و ضوابط کے تحت شیروں کو رکھا جا سکتا ہے۔تاہم پالتو درندوں کے حملوں کے بڑھتے واقعات واضح کرتے ہیں کہ خطرناک جنگلی حیات کو رہائشی علاقوں میں رکھنے کی اجازت کا تصور عملی طور پر ناقابلِ عمل اور مہلک ہے۔

وائلڈ لائف ایکٹ میں جو شرائط متعین کی گئی تھیں ان پر کہیں بھی عملدرآمد نہیں ہوا نتیجتاً نہ صرف شہری علاقوں میں پالتو شیروں کی موجودگی برقرار رہی بلکہ حفاظتی اصولوں اور قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ یہ صورتحال اس امر کی عکاس ہے کہ محض قوانین کا بنانا کافی نہیں ان پر سختی سے عمل کرانا اصل چیلنج ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے اب شیر پالنے کی قانونی اجازت مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے ایک اہم قدم ہے۔ تاہم یہ قدم تبھی مؤثر ہو گا جب اس پر فوری‘ سخت اور بلاامتیاز عملدرآمد ہو۔ نیز قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہیے اور کسی کیلئے کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں