اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مشرقِ وسطیٰ میں خطرات

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کی تیاریوں سے خطے پر ایک اور جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ حال ہی میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن اور اس متعلقہ بحری جہاز اور آبدوز کو بحیرہ جنوبی چین سے خلیج فارس کے علاقے میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل امریکی فضائیہ نے اتوار کو ایجائل سپارٹن نامی مشقیں کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جنگی تیاریوں اور صلاحیت کے مظاہرے کی یہ مشقیں امریکی سینٹرل کمانڈ کی ذمہ داریوں کے خطے میں کی جاتی ہیں۔ اگرچہ ایجائل سپارٹن امریکی فضائیہ کی مشقوں کے باقاعدہ شیڈول کا حصہ ہے تاہم اس خاص وقت کی مناسبت سے ان مشقوں کا انعقاد بھی معنی خیز ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ پیر کے روز ایک انٹرویو میں ایران کے قریب امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی کا بتا چکے ہیں‘ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تہران سفارتی طور پرمعاملات نمٹانے کیلئے کوشش کر تا نظر آتا ہے اور ایک معاہدہ چاہتا ہے۔لیکن امریکی صدر کے اس بیان سے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ وہ سفارتی پیشرفت کی حمایت میں ہیں یا طاقت کے زور سے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

خلیج فارس میں امریکی عسکری طاقت کا جمگھٹ بادی النظر میں حملے کی دلیل ہے۔ امریکہ ایران کشیدگی ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کے سر پر لٹکتی تلوار بن چکی ہے۔ ایران میں حالیہ فسادات کے ہنگام صدر ٹرمپ نے متعدد بار کھلی مداخلت کی دھمکی دی‘ تاہم امریکہ کی معتمد اتحادی خلیجی ریاستیں امریکی بحری اور فضائی افواج کی اس خطے میں موجودگی اور حملے کی تیاری کو مشرق وسطیٰ سمیت علاقائی امن کیلئے خطرناک سمجھتی ہیں اور امریکی جنگی حکمت عملی کا حصہ بننے سے صاف انکاری ہیں۔ گزشتہ روز متحدہ عرب امارات کی جانب سے تفصیلی بیان میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ وہ اپنی فضائی حدود‘ زمینی علاقے یا سمندری پانیوں کو ایران پر فوجی کارروائی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گا‘ نہ ہی کوئی لاجسٹک سپورٹ فراہم کی جائے گی۔ عرب امارات کے بیان میں واضح کیا گیا کہ بحران کا حل کشیدگی میں کمی‘ مذاکرات‘ بین الاقوامی قانون کی پابندی اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام میں ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب‘ قطر اور عمان نے بھی ایران کے خلاف امریکہ کو مسلح کارروائی سے باز رہنے کیلئے سفارتی کوششیں کیں اور صدر ٹرمپ کو قائل کیا کہ ایسی کارروائی پورے خطے کیلئے سنگین نتائج کا سبب بنے گی۔

مشرق وسطیٰ عالمی اقتصادیات اور توانائی کیلئے اہم ترین خطہ ہے مگر پچھلے کئی سال سے اس خطے پر بدامنی کا سایہ ہے۔ اگرچہ خلیج کی اہم ریاستیں مکمل طور پر محفوظ اور داخلی سطح پر پُرسکون ہیں مگر جب ایک خطہ جنگ کے بادلوں کی لپیٹ میں ہو تو اس کے اثرات خطے پر وسیع تر ہوتے ہیں۔ اس کشیدگی کے ماحول میں اسرائیل کا خاموش پھیلاؤ بھی خطرے سے خالی نہیں۔ حال ہی میں صومالیہ کے متنازع حصے کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کر کے اسرائیل نے افریقہ اور عرب خطے کی مسلم ریاستوں کیلئے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ادھر ایران میں بیرونی مداخلت کے مضمرات بھی ڈھکے چھپے نہیں۔ یہ صورتحال اس وقت خلیجی ممالک سمیت پورے خطے کیلئے ایک امتحان ہے۔ ریاستی خودمختاری کا احترام ہی عالمی امن کی بنیاد ہے۔ کسی ریاست کو اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ طاقت کے زور پر کسی ریاست کو کمزور کرنے کیلئے اقدامات کرے‘ داخلی انتشار کو ہوا دے اور مداخلت کرے۔ عالمی امن کا توازن اسی اصول کا مرہونِ منت ہے کہ ریاستوں کی خود مختاری قابلِ احترام ہے۔

اگر اس اصول کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو عالمی امن کا توازن بگڑتے دیر نہیں لگے گی۔ صدر ٹرمپ کو تو ان کی اخلاقیات بقول ان کے کھلی مداخلت سے روکتی ہے‘ مگر صدر ٹرمپ نے ملکوں کی خودمختاری کو تہس نہس کرنے کی نظیر قائم کی تو اندیشہ یہ ہے کہ پھر اخلاقیات بھی شاید تباہی کے اس سلسلے کو روک نہ پائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں