پٹرولیم لیوی اور کمزور ٹیکسیشن
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے پٹرولیم لیوی کے نام پر لیے گئے اربوں روپے قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے کمرشل بینکوں میں رکھنے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے حکومت پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام پربے تحاشا بوجھ ڈالنے کے باوجود فنڈز کو بروقت قومی خزانے میں منتقل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ دوسری جانب مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کیلئے حکومت پٹرولیم لیوی کو مزید بڑھانے پر بھی غور کر رہی ہے۔ رواں مالی سال کیلئے پٹرولیم لیوی کی مد میں 1468ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے اور اس وقت شہریوں سے پٹرول پر تقریباً 84 روپے جبکہ ڈیزل پر لگ بھگ 77 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ رقم بروقت قومی خزانے میں نہیں جا رہی تو عوام پر اتنا بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے اور اس ادارہ جاتی غفلت کا فائدہ کون اٹھا رہا ہے؟

یہ امر پٹرولیم شعبے کے کمزور ٹیکسیشن نظام کا بھی اظہار ہے کہ عوام سے تو ٹیکس وصول کیا جا رہا مگر قومی خزانے میں جمع نہیں ہو رہا۔ حکومت اور متعلقہ محکموں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ عوام سے وصول کردہ ٹیکس کمرشل بینکوں میں رکھنے کے بجائے قومی خزانے میں منتقل ہو۔ ضروری ہے کہ پٹرولیم لیوی کی وصولی اور منتقلی کے نظام میں اصلاحات کی جائیں تاکہ حکومت کی مالی شفافیت اور جوابدہی بحال ہو اور عوام پر غیر ضروری مالی دباؤ نہ پڑے ۔ پٹرولیم لیوی کا جواز ثابت ہو سکتا ہے جب عوام کی کمائی بروقت اور محفوظ طریقے سے خزانے میں منتقل ہو کر حکومتی تصرف میں آئے۔