ایڈز کا خطرہ
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں تقریباً تین لاکھ افراد ایڈز میں مبتلا ہیں مگر صرف 34ہزار زیرِ علاج ہیں۔ ایڈز کے کیسوں میں اضافہ تشویشناک ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پندرہ برسوں میں ملک میں ایڈز کے کیسوں میں 200 فیصد اضافہ ریکارڈ ہو چکا جبکہ 80 فیصد متاثرہ افراد کو علم ہی نہیں کہ وہ اس مہلک مرض میں مبتلا ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ایڈز سے متاثرہ نئے کیسوں میں اکثریت بچوں کی ہے۔ بچوں میں ایڈز کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات میں اتائیوں کی طرف سے استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال‘ غیرمحفوظ انتقالِ خون‘ حاملہ خواتین کی HIVٹیسٹنگ میں کمی اور ماں سے بچے میں منتقلی شامل ہیں جبکہ تشخیص اور طبی سہولتوں کا محدود ہونا اس مرض کو بڑھاوا دے رہا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ اتائیوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کیساتھ ہر تحصیل میں ایڈز کی تشخیص کا کم از کم ایک مرکز لازمی قائم کیا جائے۔ احتیاطی تدابیر جیسے انجکشن اور خون کی منتقلی میں عالمی اصولوں پر سختی سے عملدرآمد‘ حاملہ خواتین کی HIV ٹیسٹنگ اور علاج‘ اور عوام میں آگاہی مہمات اس بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کر سکتی ہیں۔ ایڈز ایک لاعلاج مرض ضرور ہے لیکن مناسب اقدامات اور احتیاطی تدابیر سے زندگی محفوظ بنائی جا سکتی ہے۔