شرحِ خواندگی کی صورتحال
ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق پاکستان شرح خواندگی کے لحاظ سے جنوبی ایشیا ئی ممالک میں سب سے پیچھے ہے۔ پاکستان میں مجموعی خواندگی کی شرح 63فیصد ہے‘ جس میں گزشتہ سات سال کے دوران صرف تین فیصد اضافہ ہوا جبکہ اسکے برعکس مالدیپ میں شرح خواندگی 98 فیصد‘ سری لنکا 93‘ بنگلہ دیش 79‘ بھارت 77 اور نیپال میں 70فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق خطے کی اوسط شرح خواندگی 78 فیصد ہے‘ یعنی پاکستان اس اوسط سے بھی 15 فیصد پیچھے ہے۔ ملک میں دو سال سے تعلیمی ایمرجنسی نافذ ہونے کے باوجود اب بھی دو کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔

حکومت کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں اقدامات زیادہ تر زبانی سطح تک محدود نظر آتے ہیں اور عملی منصوبہ بندی یا حقیقی اصلاحات کہیں دکھائی نہیں دیتیں۔ تعلیم صرف بنیادی حق نہیں بلکہ انسانی شخصیت سازی‘ معاشرتی شعور اور روزگار کے مواقع کے حصول کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ حکومت کو فوری طور پر نہ صرف سکولوں سے باہر بچوں کو تعلیمی دائرے میں لانے کیلئے جامع منصوبہ بندی کرنی چاہیے بلکہ بچوں کی فنی تربیت پر بھی خصوصی توجہ مرکوز دینی چاہیے تاکہ تعلیم کے فوراً بعد وہ معاشی سرگرمیوں کا حصہ بن سکیں۔ حکومت کو عوام کی قوتِ خرید بڑھانے پر بھی توجہ دینا ہوگی تاکہ والدین اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے نسلِ نو کو مزدوری پر بھیجنے کے بجائے سکول بھیجیں۔ تعلیمی شعبے کو اپنی اولین ترجیح بنائے بغیر آئندہ نسلوں کے تعلیمی بحران کا تدارک ممکن نہیں بنایا جا سکتا۔