جرائم اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے گزشتہ روز بلوچستان کی صورتحال پر قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے جو کہا اس کا لب لباب یہ ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ ہے جسے افغانستان کے اندر سے حمایت حاصل ہے۔ نیز یہ کہ سمگلنگ بلوچستان میں دہشت گردی کیلئے مالی وسائل کا سبب ہے‘علاوہ ازیں صوبے کا رقبہ بہت زیادہ مگر اس حساب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری بہت کم ۔ یقینا یہی بنیادی وجوہ ہیں جو بلوچستان میں پائیدار امن کیلئے مشکلات کا سبب بن رہی ہیں۔ ان محرکات کے واضح ہو جانے کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ انکے سدباب کیلئے مؤثر اور منظم کوششیں کی جائیں۔ سمگلنگ جو دہشت گردی کیلئے مالی وسائل کا سب سے بڑا ذریعہ ہے‘ ہمارے ہاں جس بڑے پیمانے پر ہے یہ حکومتوں سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ گزشتہ برس ایک تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سمگلنگ پاکستان کی معیشت کو سالانہ 3500 ارب روپے کا نقصان پہنچاتی ہے۔

اس غیر معمولی مالیاتی حجم کا بہت بڑا حصہ دہشت گردی کیلئے استعمال ہوتا ہے؛ چنانچہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی پائیدار روک تھام کیلئے سمگلنگ کے سوتے بند کرنا ہوں گے۔ اس سلسلے میں حالیہ کچھ برسوں کے دوران اقدامات دکھائی دیتے ہیں خاص طور پر افغانستان کیساتھ سرحد پر گزشتہ برس کی سخت بندش کے بعد‘ مگر اب بھی سمگلنگ کاسلسلہ پوری طرح رکا ہوا معلوم نہیں ہوتا اور ملک میں سمگل شدہ اشیا اب بھی ملتی ہیں۔ سمگلنگ کی روک تھام کی سختیاں ان عناصر کی آکسیجن بند کیے جانے کے مترادف ہیں جنہیں اس غیر قانونی دھندے سے ماہانہ اربوں روپے کی یافت ہوتی تھی۔ سمگلنگ کی پائیدار روک تھام ملک میں دہشت گردی کی روک تھام کیلئے ضروری ہے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے میں مزید اقدامات کیے جائیں کیونکہ یہ ناجائز سلسلہ صرف مالی خسارے کا سبب نہیں ملک میں سلامتی کے خطرات بھی اس سے جڑے ہوئے ہیں۔
جہاں تک بلوچستان کے وسیع رقبے اور اس حساب سے نفری کی بات ہے تو اس میں دو رائے نہیں۔ بلوچستان جیسے وسیع علاقوں کی نگرانی کیلئے جدید تکنیکی وسائل کی طرف جانے کی ضرورت ہے۔ انسانی موجودگی کی اپنی اہمیت ہے تاہم دور دراز علاقے پر نظر رکھنے کیلئے جدید وسائل کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں‘ خاص طور پر سرحدی علاقوں کی نگرانی کیلئے۔ افغانستان اور ایران کے ساتھ ملک کی مغربی سرحد کی نگرانی کیلئے ایسے وسائل زیادہ بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں سر حد پار کی حکومتوں کا تعاون بھی ناگزیر ہے مگر مشکل یہ ہے کہ افغانستان اس معاملے میں اچھا ہمسایہ ثابت نہیں ہوا۔ پاکستان کی جانب سے مسلسل توجہ دلائے جانے کے باوجود افغان علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں اور سر حد پار سے دہشت گردی جاری ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھی وہی عناصر ہیں جو خیبر پختونخوا میں ہیں۔
ملک میں دہشت گردی کی روک تھام کیلئے سرحد پار دہشت گرد عناصر کے ٹھکانوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں کی کامیابی کیلئے وفاق اور صوبوں میں تعاون بھی ضروری ہے۔ دہشتگردی سے متاثرہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے معاشی وسائل محدود اور عوام کی مالی حالت پتلی ہے۔ یہ معاشی حالات سمگلنگ‘ جرائم اور دہشت گردی کے فروغ کی بہت بڑی وجہ ہے۔ اگر یہ صوبے اپنے شہروں کی بہتر حفاظت کیلئے پولیسنگ کا بہتر انتظام نہیں کر پائے تو اس کی ایک وجہ مالی وسائل کی کمیابی بھی ہے۔ اس لیے وفاق کو آگے آنا چاہیے تا کہ انسدادِ دہشتگردی کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے تمام مراحل بخوبی انجام پا سکیں۔