اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سکول بنیادی سہولتوں سے محروم

حکومتی دعوؤں کے باوجود پنجاب کے بیشتر سرکاری سکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ایک خبر کے مطابق صوبے کے 17 ہزار سرکاری سکول انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں طلبہ جدید تعلیم اور ڈیجیٹل مواقع سے محروم رہتے ہیں۔ صوبے میں صرف 8500کے قریب سکولوں میں کمپیوٹر لیبز‘ 1300 میں فزکس اور کیمسٹری لیبز اورایک ہزار سکولوں میں بائیولوجی لیبز قائم ہیں۔ علاوہ ازیں 24 فیصد سکولوں کی عمارتیں فوری تعمیر و مرمت کی محتاج ہیں‘جن کی خستہ حال چھتیں اور بوسیدہ دیواریں طلبہ کیلئے مسلسل خطرہ ہیں۔ بنیادی تعلیمی سہولیات کی کمی نہ صرف طلبہ کے تعلیمی معیار پر اثر انداز ہو رہی ہے بلکہ انہیں عملی اور جدید تعلیم سے بھی محروم رکھتی ہے۔

صوبائی حکومت کے ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ کے دعوؤں کے باوجود سترہ ہزار سکولوں کا انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہونا حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صرف دعوے اور پالیسیز کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات‘ فنڈز کی ترجیحی تقسیم اور مسلسل نگرانی وقت کی اشد ضرورت ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کیلئے سرکاری سکولوں میں نہ صرف بنیادی سہولیات فراہم کرے بلکہ اساتذہ کی تعداد اور حاضری کو بھی طلبہ کی تعداد کے مطابق یقینی بنائے۔ بصورت دیگر طلبہ مستقبل کے مواقع سے محروم رہیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں