تجارتی خسارہ
وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق جنوری میں ملکی برآمدات پہلی بار تین ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں‘ جو خوش آئند پیش رفت ہے مگر مجموعی تجارتی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔ ادارۂ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ 22 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا‘ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ خسارہ 17 ارب ڈالر تھا۔ جولائی 2025ء تا جنوری 2026ء کے دوران ملک کی مجموعی برآمدات 18ارب 19کروڑ ڈالر رہیں جبکہ درآمدات 40 ارب 23 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ برآمدات میں کمی کی بنیادی وجوہات میں عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی کمزور طلب‘ بلند پیداواری لاگت کی وجہ سے مسابقت میں کمی‘ ناقص حکومتی پالیسیاں اور ٹیکسوں کی بھرمار شامل ہیں۔

خاص طور پر توانائی کی بلند قیمتیں ٹیکسٹائل اور دیگر برآمدی شعبوں کیلئے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ اگرچہ حکومت نے حالیہ دنوں صنعتوں کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں چار روپے کمی اور ویلنگ چارجز میں بھی کمی کا اعلان کیا ہے جس سے پیداوار کی لاگت کم ہوگی‘ تاہم صرف توانائی کی لاگت میں کمی کافی نہیں۔ برآمدات کے فروغ کیلئے معاشی پالیسیوں میں موجود خلا کو بھی دور کرنا ہوگا۔ اسی طرح غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی اور مقامی پیداوار کو ترجیح دینا تجارتی خسارے پر قابو پانے کیلئے ناگزیر ہے۔ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور صنعتی شعبے کو فروغ دینے کیلئے بھی یہ اقدامات بہت ضروری ہیں۔