اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ایران امریکہ مذاکرات اور پاکستان

ایران اور امریکہ کا چھ فروری کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا عالمی سفارتکاری کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ ترکیہ کے شہر استنبول میں ہونیوالے یہ مذاکرات محض دو ملکوں کے تصفیہ طلب مسائل کے حل کا ہی موقع نہیں بلکہ عالمی امن‘ علاقائی استحکام‘ بین الاقوامی تجارت اور توانائی چین کو بحال رکھنے کی ایک ناگزیر ضرورت بھی ہیں۔ اقتصادی پابندیوں‘ برسوں کی سرد جنگ اور جنگ کے بادلوں کے سائے میں دونوں ملکوں کی جانب سے مذاکرات پر رضا مندی اور اسکی کامیابی کیلئے پُرامید ہونا عالمی استحکام کیلئے ایک اچھا شگون ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ ان مذاکرات میں فریقین باہمی مسائل کا ایسا حل ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں گے جس سے کشیدگی کا خطرہ زائل ہو سکے۔ اس پورے منظر نامے میں پاکستان کی مذاکرات میں شرکت اسکی سفارتی اور تزویراتی اہمیت کے حوالے سے ایک نئی حقیقت کا اعتراف ہے۔ پاکستان کو ان مذاکرات میں مدعو کیا جانا اس بات کا اظہار ہے کہ خطے میں اہم مسائل کے پائیدار حل کیلئے اسلام آباد کو آن بورڈ لینا ایک اہم ضرورت ہے۔ جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران اور امریکہ کے براہِ راست مذاکرات گزشتہ برس اپریل میں عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوئے تھے۔

جون میں جب امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تو اس وقت بھی دونوں ممالک کے مابین مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا جو کامیاب نہیں ہو سکا۔ تاہم اس بار ترکیہ کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں بنیادی فریقین کے علاوہ پاکستان سمیت خلیجی ممالک کی شمولیت ان مذاکرات کو کامیاب بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے ایران کیساتھ برادرانہ اور تاریخی تعلقات ہیں جبکہ امریکہ کیساتھ بھی تعاون کی تاریخ دہائیوں پر محیط ہے‘ لہٰذا یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو دعوت محض ایک مبصر کی حیثیت سے نہیں دی گئی بلکہ یہ ایک ایسے پُل کے طور پر ہے جو تہران اور واشنگٹن کے مابین اختلافات کو طے کروانے میں مدد کر سکتا ہے۔ ایران امریکہ تناؤ میں پاکستان کا مؤقف بڑا واضح رہا ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے اس بات کا حامی رہا ہے کہ طاقت کے بجائے باہمی مسائل کو سفارتکاری سے حل کیا جانا چاہیے۔ استنبول مذاکرات میں پاکستان کی موجودگی اس بات کو بھی یقینی بنائے گی کہ خطے کے ممالک کے مفادات کا تحفظ ہو۔

اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو اسکا سب سے بڑا فائدہ علاقائی استحکام کی صورت میں سامنے آئے گا۔ ایران امریکہ تناؤ میں کمی اور مسلح تصادم کے خطرات کے ازالے سے توانائی کی مارکیٹ کو استحکام حاصل ہو گا اور یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ خلیج فارس میں بحری آمدورفت کیلئے خطرات کا خاتمہ عالمی تجارت خاص طور پر توانائی کی تجارت کیلئے غیر معمولی طور پر اہم ہے۔ علاقائی کشیدگی میں کمی سے پاکستان کی مغربی سرحدیں محفوظ ہوں گی اور داخلی استحکام مزید مضبوط ہو گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں مسائل کو حل کرنے کے بجائے نئے مسائل کو جنم دینے کا سبب بنتی ہیں۔ ایران اور امریکہ‘ دونوں کی مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی جانب پیشرفت اس امر کی مظہر ہے کہ دونوں ممالک بات چیت کے ذریعے پُرامن طور پر مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ استنبول مذاکرات کی کامیابی صرف دو ملکوں کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ یہ کثیر جہتی سفارتکاری کی فتح ہو گی اور مشرقِ وسطیٰ کے امن کیلئے اسکی اہمیت غیر معمولی ہو گی۔

پاکستان سمیت سبھی ثالث ممالک کو چاہیے کہ ایران امریکہ تنازعات کے پائیدار حل کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ حالیہ تنازعے کے دوران خلیجی ممالک نے ایران کیخلاف امریکی حملے میں کسی طرح کا تعاون نہ کرنے کی یقین دہانی کروا کر اپنے خطے کو ایک تباہ کن تصادم سے بچا لیا۔ ایران امریکہ مسائل کا مستقل حل اس خطے کے پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں