دہشت گردی اور امریکی اسلحہ
ایک امریکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغانستان سے انخلا کے وقت امریکہ کی جانب سے وہاں چھوڑا گیا اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔ افغانستان کی تعمیرِ نو سے متعلق امریکی ادارے کے سابق سربراہ کے مطابق امریکی افواج کے انخلا کے وقت تقریباً تین لاکھ جدید امریکی ہتھیار افغانستان میں موجود تھے‘ جن میں سے بہت سے ہتھیار اب کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشتگردوں کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ہتھیاروں اور نائٹ وژن آلات کی دستیابی دہشت گردوں کی صلاحیت میں اضافے کا باعث بنی ہے اور یہ اسلحہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ پاکستان مسلسل دنیا کو اس خطرے کی جانب متوجہ کرتا آ رہا ہے۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے عبوری افغان حکومت سے بھی اس مسئلے پراعلیٰ سفارتی سطح پر رابطہ کاری کی کوششیں کی گئیں اورافغان طالبان کی جانب سے دہشتگردی کیلئے افغانستان کی زمین استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانیاں بھی بہت کرائی گئیں مگر عملی طور پر اس کے برعکس ہوا۔ افغانستان سے درپیش ان خطرات سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ عالمی برادری بالخصوص علاقائی ممالک افغان رجیم کو دوحہ معاہدے پر عملدرآمد کا پابند بنائیں تاکہ یہ علاقہ امن کا گہوارہ بن سکے۔افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ اور دفاعی آلات دہشت گردوں کے ہاتھ لگ کر پاکستان سمیت اس پورے خطے کے لیے خطرات کی بڑی وجہ بن چکا ہے۔