وسطی ایشیا سے قربت
وسطی ایشیائی ریاست قازقستان کے صدر کا تئیس برس بعد پاکستان کا دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات کے باب میں ایک اہم سنگِ میل اور جنوبی اور وسطی ایشیائی خطوں کے درمیان صدیوں پرانے جغرافیائی اور ثقافتی رشتوں کو فروغ دینے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے دونوں ملکوں کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باہمی تعلقات کا تزویراتی شراکت داری میں ڈھلنا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس موقع پر تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کیلئے پانچ سالہ روڈ میپ پر بھی اتفاق کیا گیا اوردونوں ملکوں میں توانائی‘ زراعت‘ کان کنی اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں 37 سمجھوتوں پر دستخط ہوئے۔ اس وقت پاکستان اور قازقستان میں دو طرفہ تجارت کا حجم محدود ہے‘ حالانکہ اس میں وسعت کی خاصی گنجائش ہے۔ پاکستان چاول‘ پھل‘ خشک میوہ جات‘ گوشت‘ ادویات اور ٹیکسٹائل مصنوعات قازقستان کو برآمد کرتا ہے جبکہ وہاں سے خام تیل‘ دالیں ‘ سبزیاں اور صنعتی خام مال درآمد کیا جاتا ہے۔

باہمی تجارت کا حجم 250 ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے‘ تاہم اب دونوں ملکوں نے اس کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم کیا ہے۔ قازقستان کے بعد ازبکستان کے صدر بھی آج (پانچ فروری کو) پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں اور اس دوران بھی متعدد نئے معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط متوقع ہیں۔ پاکستان نے وسط ایشیائی ممالک سے تعلقات کو جیو اکنامکس میں بدلنے کا جو عزم کر رکھا ہے‘ وسطی ایشیائی ممالک کے سربراہان کے یہ دورے اور معاہدے اس عزم کی تکمیل کی جانب بڑی پیشرفت کو ظاہر کرتے ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے وسطی ایشیا کا خطہ پاکستان کی قریبی ہمسائیگی میں آتا ہے اور دونوں خطے قدیم تاریخی اور ثقافتی بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے خارجہ تعلقات کی بدلتی نوعیت اس امر کا اظہار ہے کہ دو طرفہ تعلقات اب سٹرٹیجک پارٹنرشپ میں بدل رہے ہیں۔ وسطی ایشیا خشکی سے گھرا ہوا خطہ ہے اور یہ سمندر تک رسائی کے لیے پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز بھی پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے تجارت کی پیشکش دہرائی۔ اس طرح پاکستان وسطی ایشیا کیلئے جنوبی ایشیا کے دروازے کھول سکتا ہے جبکہ وسط ایشیائی ریاستیں پاکستان کو یوریشیا تک رسائی دے سکتی ہیں۔ پاکستان ویژن سینٹرل ایشیا کے تحت وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اپنے خارجہ تعلقات کو ٹھوس اقتصادی اور تزویراتی شراکت داری میں بدلنے کیلئے کوشاں ہے اور اس پالیسی کے تحت تجارتی واقتصادی اور دفاعی تعلقات کے فروغ کے ساتھ سیاسی و عوامی روابط کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے جبکہ توانائی اور کنکٹیوٹی منصوبے بھی اس پالیسی کا اہم حصہ ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا فورم اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اس حوالے سے فریقین کو وسیع مواقع فراہم کرتا ہے اور اس میں پاکستان کی فعال شمولیت نے جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ توانائی‘ ریلوے لائن‘ اقتصادی راہداریوں اور بجلی کی ٹرانسمیشن لائن سمیت کئی اہم منصوبوں پر کام جاری ہے مگر افغانستان ان منصوبوں کی سب سے کمزور کڑی ہے۔ بالخصوص توانائی منصوبوں اور زمینی راستوں کی بحالی میں افغانستان کی کشیدہ اور غیر مستحکم صورتحال سب سے بڑی رکاوٹ ہے ‘تاہم پاکستان اب افغانستان پر انحصار کم کرنے کیلئے چین اورایران کے راستے وسطی ایشیا تک پہنچنے کے متبادل راستوں پر کام کر رہا ہے۔ بلاشبہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے سربراہان کا دورۂ پاکستان ایک نئے معاشی اتحاد کی نوید سنا رہا ہے اور پاکستان کیلئے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی سٹرٹیجک اہمیت کو معاشی طاقت میں بدل دے۔