خلائی سفرکا موقع
پاکستان کے دو ماہرین کا چائنا آسٹروناٹس سینٹر میں تربیت کے لیے انتخاب ملک عزیز کے لیے انسانی خلائی شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ پاکستان اور چین میں فروری 2025ء میں طے پانے والے خلا باز تعاون معاہدے کے تحت دو پاکستانی ماہرین کو تربیت کے بعد خلائی مشن کے لیے چینی سپیس سٹیشن پر روانہ کیا جائے گا۔ یہ پیشرفت نہ صرف پاکستانی سائنسدانوں کیلئے حوصلہ افزا ہے بلکہ ملک میں سپیس سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں دلچسپی پیدا کرنے کا بھی موقع فراہم کرتی ہے۔ پاکستان چین کے انسانی خلائی پروگرام میں واحد غیر ملکی شراکت دار ہے۔ گزشتہ پندرہ برس میں پاکستان نے چین کی مدد سے سات سیٹیلائٹس خلا میں بھیجے اور اب چین کے تعاون سے انسانی خلائی مشن کی طرف بڑھنا اس علمی اور تکنیکی سفر کا اگلا قدم ہے۔

مگر اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم سپیس سائنس کے شعبے میں خود بھی قدم بڑھائیں اور چین پر انحصار کم کریں۔ سپیس سائنس کے شعبے میں ترقی کے لیے حکومت کو تعلیم‘ تحقیق‘ جدید انفراسٹرکچر‘ بین الاقوامی شراکت داری‘ مالی معاونت اور عوامی حوصلہ افزائی سب پر بیک وقت کام کرنا ہوگا۔ یہ اقدامات نہ صرف ملک کو خلائی تحقیق میں خود مختار بنائیں گے بلکہ نوجوان سائنسدانوں کو عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بھی بنائیں گے۔