گھریلو صارفین پر بوجھ
وفاقی حکومت نے صنعتی صارفین کو بجلی کے ٹیرف میں فی یونٹ چار روپے کی رعایت کا جو اعلان کیا ہے اس کا بوجھ گھریلو صارفین کے ٹیرف اور فکسڈ چارجز میں ردوبدل کر کے پورا کرنے کا منصوبہ حیران کن ہے۔ مجوزہ فیصلے کے تحت 100سے 300 یونٹ ماہانہ تک بجلی استعمال کرنیوالے پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین پر 200سے 350روپے تک ماہانہ فکسڈ چارجز لگائے جانے کا منصوبہ ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کے پاس سستی بجلی فراہم کرنے کا کوئی پائیدار حل موجود نہیں۔ صنعتی ترقی اہم ضرور ہے مگر اس کیلئے گھریلو صارفین کو قربانی کا بکرا بنانا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں۔ ملک میں مہنگی بجلی کی اصل وجہ درآمدی ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی اور نجی بجلی گھروں کے کپیسٹی چارجز ہیں۔ فنانس ڈویژن کے مطابق ملک میں تقریباً 54فیصد بجلی مہنگے درآمدی ایندھن سے پیدا کی جاتی ہے۔

جب تک توانائی کے اس ڈھانچے کو تبدیل نہیں کیا جائے گا بجلی سستی نہیں ہو سکتی۔ اس کا واحد پائیدار حل کپیسٹی پیمنٹس کا خاتمہ اور قابلِ تجدید توانائی‘ خاص طور پر سولر اور ونڈ انرجی ہے‘ جسکے وافر وسائل ملک میں موجود ہیں۔ حکومت نے قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دینے کے بجائے سولر صارفین کیلئے نیٹ اور گرین میٹرنگ پالیسی میں بھی تبدیلی کر دی ہے جس سے عوام میں سولر انرجی کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔ یہ رویہ سستی بجلی کے دعوؤں کے بالکل برعکس ہے۔ جب تک توانائی پالیسی کا رخ درست نہیں کیا جاتا‘ بجلی کی قیمتوں کمی کی کوئی امید نہیں۔