اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

انسداد دہشت گردی، بروقت کارروائی

اسلام آباد میں دہشت گردی کا واقعہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اگرچہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل اور کٹھن جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں تاہم یہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔سرحد کی دوسری جانب ناکام ریاست کی حرکیات اپنی پوری شدت کیساتھ موجود ہیں اور پاکستان کیلئے متواتر خطرات کا موجب ہیں۔تاہم دہشت گردی کے حالیہ واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں کی جانب سے چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت میں پیش رفت اور دہشت گردی کے اس واقعے کے ماسٹر مائنڈ اور سہولت کاروں کی گرفتاری ایک بڑی کامیابی ہے جو ریاستی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کی مؤثر کارکردگی اور استعدادِ کار کو ظاہر کرتی ہے۔ اس حملے میں کالعدم داعش کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔یہ عالمی دہشتگرد ماضی میں بھی پاکستان سمیت اس خطے کے کئی ممالک میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث پایا گیا ہے۔معاشرتی تقسیم‘ فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینا‘ مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا اور ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنا کالعدم داعش کے بنیادی مقاصد ہیں۔

اسلام آباد جیسے شہر میں حالیہ کچھ ماہ کے دوران اس نوعیت کا دورسرا بڑاواقعہ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ سکیورٹی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کیا جائے۔دہشتگرد ی کے ماسٹر مائنڈ اور سہولت کاروں کی گرفتاریاں سکیورٹی کے نقطہ نظر سے یقینا اہم پیشرفت ہیں کیونکہ دہشت گرد نیٹ ورکس میں سہولت کاروں کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے عناصر نہ صرف حملہ آوروں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں مقامی سطح پر محفوظ پناہ گاہیں‘ معلومات اور مالی معاونت بھی مہیا کرتے ہیں۔ دہشتگردی کے اس واقعے کے ماسٹر مائنڈ اور سہولت کاروں کی گرفتاری دہشتگردی کے امکانی خطرات سے بچنے میں مددفراہم کرسکتی ہے۔یہ امر بھی قابلِ تحسین ہے کہ سکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کر کے نہ صرف ذمہ داروں کی نشاندہی کی بلکہ عوام میں پائے جانے والے خوف اور بے چینی کو کم کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔ تاہم وقتی کامیابی کو مستقل کامیابی میں بدلنے کیلئے ضروری ہے کہ انسدادِ دہشتگردی کی حکمتِ عملی کو وقتی ردِعمل کے بجائے طویل مدتی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔

دہشت گردوں کا مقصد محض جانی نقصان نہیں بلکہ معاشرے میں انتشار‘ عدم اعتماد اور خوف کی فضا پیدا کرنا ہے۔ فرقہ وارانہ نوعیت کے حملے قوم کو تقسیم کرنے اور انتشار کی سوچی سمجھی سازش ہوتے ہیں۔ ایسے میں ریاست کی ذمہ داری صرف سکیورٹی اقدامات تک محدود نہیں رہتی بلکہ بیانیے کی جنگ بھی اتنی ہی اہم ہو جاتی ہے۔ حکومت‘ مذہبی قیادت‘ذرائع ابلاغ اور دیگر رائے ساز حلقوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ قوم کو اس حقیقت سے آگاہ رکھیں کہ دہشت گردوں کا کسی مذہب‘ مسلک یا فرقے سے تعلق نہیں۔ اگر دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے اور معاشرہ باہمی شک و شبہات کا شکار ہو گیا تو یہ ہمارے لیے کہیں زیادہ خطرناک صورتحال ہوگی۔اسلام آباد میں پیش آنیوالا دہشت گردی کا یہ واقعہ ایک انتباہ ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں حالات کا فائدہ اٹھا کر دوبارہ سر اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ خطے کی بدلتی سکیورٹی صورتحال‘ سرحد پار شدت پسند عناصر کی سرگرمیاں اور انہیں بھارتی سرپرستی‘ایسے عوامل ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ترلائی امام بارگاہ میں دہشت گردی کے ذمہ داروں کی گرفتاریاں قابلِ ستائش کامیابی ہیں مگر اصل امتحان اس دہشتگردوں کے ناپاک منصوبوں کو خاک میں ملانے کا ہے۔ افغانستان میں عالمی دہشت گردی کا اڈہ پاکستان کیلئے غیر معمولی خطرہ بن چکا ہے‘ مگر یہ خطرہ صرف پاکستان کیلئے نہیں دراصل پورا خطہ اور دنیادہشت گردی کے بڑے خطرات سے دوچار ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں بجا کہا کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر یہ مدعا بیان کرنا چاہیے ۔ بلاشبہ دہشت گردی کیخلاف علاقائی و عالمی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں