کائٹ فلائنگ ایکٹ کی خلاف ورزی
پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی اور اینٹی کائٹ فلائنگ ایکٹ کے نفاذ کے باوجود راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں پتنگ بازی کی اطلاعات ہیں اور پتنگوں کی ڈور سے متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ لاہور میں منائی گئی بسنت کے آفٹر شاکس ہیں کہ اب دیگر شہروں میں بھی عوام بسنت منانے پر بضد ہیں اور اس امر کو خاطر میں نہیں لا رہے کہ صوبے میں اینٹی کائٹ فلائنگ ایکٹ نافذ ہے جس کے تحت پتنگ بازی پر جرمانہ اور قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اینٹی کائٹ ایکٹ کی کھلی خلاف ورزی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صرف قانون کی موجودگی کافی نہیں ‘ اس کا سخت نفاذ بھی ضروری ہے۔ اسکے برعکس راولپنڈی میں شہری انتظامیہ اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے اس غیرقانونی بسنت پر خاموش تماشائی بنے رہے۔

لاہور میں بسنت منائے جانے کے بعد صوبے میں پتنگ سازی کی صنعت فروغ پا رہی ہے اور پتنگ بازی کے سامان کی خرید و فروخت کھلے عام جاری ہے۔ جب تک اینٹی کائٹ فلائنگ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنیوالوں کو سخت سزائیں نہیں دی جاتیں یہ خونیں کھیل رکتا نظر نہیں آتا۔ متعلقہ حکام کو اینٹی کائٹ فلائنگ ایکٹ پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ فوری نوٹس لے کر قانون کی عملداری اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔ ورنہ یہ خونیں کھیل پھر سے ہر شہر میں شروع ہو جائے گا۔