مہنگی بجلی کا بوجھ
آئی ایم ایف نے حکومت پر زور دیا ہے کہ بجلی کے ٹیرف میں حالیہ ردوبدل کا بوجھ متوسط اور کم آمدنی والے طبقات پر نہیں پڑنا چاہیے۔ حکومت نے صنعتی صارفین کو ریلیف دینے کیلئے گھریلو صارفین کے بلوں میں جو فکس چارجز عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس پر آئی ایم ایف کے ردِعمل کے بعد حکومت یہ دلیل بھی پیش نہیں کر سکتی کہ اس کی وجہ عالمی مالیاتی ادارے کی سخت شرائط ہیں۔ توانائی کے بحران کو سنبھالنے کے نام پر حکومت کی جانب سے ہر بار کم آمدنی والے طبقات پر مختلف مدات میں اضافی بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل توانائی کے شعبے میں اصلاحات نہیں بلکہ کمزور اور سطحی پالیسی کی علامت ہے۔ حکومت کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ حقیقی استحکام عوامی بوجھ بڑھانے سے نہیں بلکہ نظام کی خرابیوں کو درست کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔

عوام پر بوجھ بڑھانے کے بجائے حکومت کو پاور سیکٹر کے ان مسائل پر توجہ دینی چاہیے جو مہنگی بجلی کا اصل سبب ہیں۔ پاور سیکٹر برسوں سے گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ بجلی چوری‘ وصولیوں کا ناقص نظام اور سب سے بڑھ کر کپیسٹی چارجز جیسے عوامل کی وجہ سے بجلی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔ حکومت عوام پر بوجھ بڑھانے کے بجائے ان مسائل پر توجہ مرکوز کرے۔ توانائی کے شعبے میں شفافیت‘ آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی‘ٹرانسمیشن لاسز اور بجلی چوری کے خلاف سخت اقدامات ہی پاور سیکٹر کے مسائل کا پائیدار حل ہیں۔