ا نسانی ہمدردی اور قومی ذمہ داری کا تقاضا
ملکی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک انسانی اور طبی نوعیت کا معاملہ سیاسی بحث و تمحیص کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے عارضۂ چشم سے متعلق خبریں سامنے آئیں تو فطری طور پر تشویش پیدا ہوئی مگر اس معاملے کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا ذریعہ بنانے کی کوششیں بھی شروع ہو گئیں۔ کسی بھی سیاسی رہنما کی صحت کا مسئلہ سب سے پہلے انسانی ہمدردی اور قانونی ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے نہ کہ الزام تراشی اوربیان بازی کا۔ جمہوری معاشروں میں یہ اصول مسلمہ ہے کہ زیر حراست یا قید کسی بھی فرد کو مکمل طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہ ذمہ داری آئین‘ قانون اور بنیادی انسانی حقوق سے جڑی ہوئی ہے۔ ماضی میں جب مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو دورانِ حراست طبی مسائل پیش آئے تو اُس وقت بھی صحت کے معاملے پر عوام میں تشویش پائی جاتی تھی۔اب جبکہ ملک کی ایک اور بڑی سیاسی جماعت کے قائد کو دورانِ قید طبی مسائل کا سامنا ہے تو حکومت پر لازم ہے کہ انہیں معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کرنے میں کوئی کوتاہی نہ برتے۔

اس سلسلے میں جس قسم کے ماہر ڈاکٹروں‘ ہسپتال یا مشاورت کی ضرورت ہو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ علاج میں تاخیر یا غیر شفافیت نہ صرف انسانی ہمدردی کے منافی ہے بلکہ اس سے سیاسی بدگمانی اور افواہوں کو بھی تقویت ملتی ہے۔ حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے علاج کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دیے جانے اور انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ بھی خوش آئند ہے۔ بیماری کی صورت میں ایک قیدی کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ اسکے قریبی عزیزوں کیساتھ اس کی ملاقات کا اہتمام کیا جائے؛چنانچہ گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی کی انکے بیٹوں کیساتھ فون پر بات کروانا بھی خوش آئند ہے۔ خاندان سے رابطہ کسی بھی قیدی کا بنیادی حق سمجھا جاتا ہے اور اس سے انسانی پہلو کو تقویت ملتی ہے۔ تاہم صرف علامتی اقدامات کافی نہیں اصل کسوٹی یہ ہے کہ طبی معائنے‘ رپورٹس اور علاج کے مراحل میں مکمل سنجیدگی اور تسلسل دکھایا جائے۔
دوسری جانب اپوزیشن پر بھی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگرچہ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے لیکن صحت جیسے حساس معاملے پر اشتعال انگیز بیانات یا عوامی جذبات کو بھڑکانا ملک کیلئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ سیاسی قائدین کو احساس ہونا چاہیے کہ انکے الفاظ اور لب و لہجہ براہِ راست کارکنوں اور عوامی رویوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایسے بیانات جو نظام پر عدم اعتماد یا تصادم کی فضا پیدا کریں‘ وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتے ہیں مگر طویل مدت میں نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اختلافات اور تناؤکم کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشی چیلنجز‘ سماجی مسائل اور علاقائی صورتحال پہلے ہی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہیں۔ ایسے میں کسی رہنما کے طبی مسائل کو سیاسی کشمکش کا محرک بنانا قومی مفاد کے خلاف ہوگا۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے جو انسانی ہمدردی‘ آئینی ذمہ داری اور سیاسی تحمل پر مبنی ہو۔سیاسی قیادت کیلئے ضروری ہے کہ اپنے لب و لہجے میں شائستگی اور اعتدال برقرار رکھے۔
بیان بازی میں شدت وقتی تالیاں تو سمیٹ سکتی مگر اسکے اثرات معاشرتی تقسیم اور سیاسی تناؤ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ قومی قیادت کا منصب یہ تقاضا کرتا ہے کہ اختلاف کے باوجود اس بنیادی انسانی اصول پر متفق ہو کہ بیماری سیاست کا موضوع نہیں بلکہ خدمت اور ذمہ داری کا امتحان ہے۔ سیاسی قیادت اس معاملے پر بالغ نظری کا مظاہرہ کرے‘ حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مقدم رکھے اور اپوزیشن ذمہ دارانہ رویہ اپنائے تو ملکی سیاست میں ایک مثبت مثال قائم ہو سکتی ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر انسانی جان اور صحت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ یہی وہ اصول ہے جس پر ایک مہذب اور جمہوری معاشرہ قائم رہتا ہے۔