رمضان ریلیف اور سفید پوش
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے رمضان ریلیف پیکیج کے تحت ایک کروڑ سے زائد خاندانوں کیلئے 13 ہزار روپے کی نقد امداد ایک خوش آئند اقدام مگر یہ پیکیج پیچیدہ معاشی مسائل اور عام آدمی کی دیرینہ محرومیوں کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں مہنگائی ایک ایسا معمول بن چکی ہے جس کے سامنے حکومتی ریلیف پیکیجز بھی بے بس نظر آتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے چند لاکھ گھرانوں کو تو مالی مدد فراہم کر دی جاتی ہے‘ مگر سفید پوش طبقہ مہنگائی کے تھپیڑوں سے رُل کر رہ جاتا ہے۔ رمضان سے قبل ہی ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور سرگرم ہو جاتے ہیں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ حکومتی پیکیج کا بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ محض انتہائی غریب طبقے کو ریلیف فراہم کرتا ہے اور وہ سفید پوش طبقہ جو نہ خیرات مانگ سکتا ہے اور نہ ہی اس کی قلیل آمدن مہنگائی کے اس طوفان کا مقابلہ کر پاتی ہے‘ وہ بالکل لاچار ہو کر رہ جاتا ہے۔

لہٰذا رمضان پیکیج کے تحت عام مارکیٹ میں اشیا کی سستے نرخوں پر دستیابی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ نچلے طبقے کے ساتھ متوسط طبقے کو بھی فوکس بنایا جائے تاکہ وہ اپنی عزتِ نفس برقرار رکھ سکے۔ اس ضمن میں اصل چیلنج مارکیٹ چیکنگ اور سپلائی چین کی بہتری ہے۔ جب تک ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ فعال نہیں ہوں گے‘ ناجائز منافع خور من مانی قیمتیں وصول کرتے رہیں گے۔ رمضان ریلیف پیکیج ایک خوش آئند اقدام لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار منصفانہ تقسیم اور مارکیٹ پر سخت گرفت پہ ہے۔