معیشت کے بڑے چیلنجز
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ملکی آبادی میں اضافے کی بلند شرح کو معاشی ترقی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ کی آبادی کو صرف حکومت ملازمت کے مواقع فراہم نہیں کر سکتی‘ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے نجی شعبے کو قیادت سنبھالنی چاہیے۔ وزیر خزانہ نے صورتحال کی صحیح نشاندہی کی ہے‘ یقینا پاکستان جیسی بڑی آبادی کیلئے وسائل اور روزگار کا سارا بوجھ صرف سرکاری شعبے پر نہیں ڈالا جا سکتا‘ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ نجی شعبے کو اس قابل بنانے کے لیے کہ وہ روزگار کے وافر مواقع پیدا کرے حکومتی پالیسیاں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں اس حوالے سے اصلاح کی بڑی گنجائش موجود ہے؛ چنانچہ نجی شعبے میں وہ اٹھان پیدا نہیں ہو سکی جو کہ درکار ہے اور وہ اس قابل نہیں ہو پا رہا کہ روزگاری کی مارکیٹ میں حکومت کا سارا بوجھ خود سنبھال سکے۔

لیبر فورس سروے کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران ملک میں بیروزگاری کی شرح 7.1 فیصد کے ساتھ 21 سال کی بلند ترین سطح پرتھی۔ 2003-04ء میں بیروزگاری کی شرح 7.7 فیصد ریکارڈ کی گئی مگر اس کے بعد سے یہ 5.3 فیصد اور 6.9 فیصد کے درمیان رہی۔ پاکستان جیسی نوجوانوں کی بڑی آبادی کو روزگار کے مواقع کی طلب کو پورا کرنے کے لیے معاشی نمو کی اونچی شرح کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان کی افرادی قوت میں سالانہ تقریباً 22 سے 25 لاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے مگر حالیہ برسوں میں ملازمتوں کی تخلیق اس کے مقابلے میں بہت کم رہی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق معیشت نے حالیہ برسوں میں سالانہ 12 سے 15 لاکھ کے درمیان ملازمتیں پیدا کی ہیں۔ حال ہی میں ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بنگا پاکستان کے دورے کے موقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کو سالانہ 25 سے 30 لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے‘ یعنی اگلی ایک دہائی میں تقریباً اڑھائی سے تین کروڑ نئی ملازمتیں‘ کیونکہ سالانہ لاکھوں نوجوان بالغ ہو رہے ہیں۔
اس کے لیے سالانہ سات سے دس فیصدکی شرح سے مسلسل معاشی نمو کی ضرورت ہے۔ مگر ابھی تک اس کا نصف بھی حاصل نہیں ہو پایا۔ اس صورتحال میں بیروزگاری میں اضافے کا مسئلہ کسی صورت قابو میں نہیں آ سکتا۔ بیروزگاری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نجی شعبے کا کردار یقینا بہت اہم ہے مگر یہ اسی صورت ممکن ہے جب معاشی پالیسیاں مؤثر نظر آ رہی ہوں‘ سرمایہ کاری کی رفتار بڑھے‘ صنعتیں لگیں اور خدمات کے شعبے بھی ترقی کریں۔ سرمایہ کاری کی موجودہ صورتحال کسی طرح بھی تسلی بخش نہیں۔ اس کی وجوہات کا بے لاگ تجزیہ ہونا چاہیے تاکہ مسائل کے حل کی صورت پیدا ہو سکے۔ ہماری معیشت کے روایتی شعبے روزگار کے لیے بڑے معاون ثابت ہو تے ہیں‘ ان کے لیے بھی اقدامات کی بہت ضرورت ہے۔ زراعت ایسا ہی شعبہ ہے جس میں نمو کی صلاحیت شاید سب سے زیادہ ہے مگر حالیہ برسوں میں اس شعبے کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی۔ پچھلے دو‘ تین برس کے دوران موسمی صورتحال‘ سیلاب اور اجناس کی کساد بازاری نے زرعی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
نتیجتاً یہ شعبہ جو ملکی آبادی کے ایک بڑے حصے کو سنبھال لیتا تھا‘ جب خود ہی بے حال ہوا تو اس سے وابستہ افرادی قوت دیگر شعبوں میں ملازمتیں ڈھونڈنے پر مجبور ہوئی۔ یہ عوامل بھی ملک میں بیروزگاری کی بلند شرح کے محرکات ہیں۔ یقینا بڑی آبادی کا بوجھ بھی اپنی جگہ موجود ہے مگر صرف بیروزگاری میں اضافے کا ذمہ دار یہی نہیں۔ یہ معیشت کے چکر میں شامل بہت سے عوامل کے ساتھ جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ حکومت اگر ملازمتیں فراہم کرنے کے لیے کلیدی ذمہ داری نجی شعبے پر ڈالتی ہے تو اسے یہ کرنا ہو گا کہ مؤثر پالیسیوں کی مدد سے معیشت کے استحکام کو یقینی بنائے۔ معیشت کا پہیہ گھومے گا‘ مِل کی چمنی سے دھواں نکلے گا تو مزدور کے گھر کا چولہا بھی جلتا رہے گا۔