رمضان سے قبل منافع خوری
رمضان المبارک کی آمد سے قبل اٹھنے والی مہنگائی کی لہر نے عوام کو بالکل بے بس کر دیا ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے رمضان ریلیف پیکیجز کیلئے اربوں روپے کی خطیر رقم تو مختص کی گئی ہے لیکن عام مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا کوئی بندوبست نظر نہیں آتا۔ مارکیٹ میں تقریباً ہر بنیادی شے سرکاری نرخ نامے سے زائد قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔ عوام اس گراں فروشی پر دکانداروں کو اور دکاندار حکومت اور ذخیرہ اندوزوں کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ بلا شبہ اس مصنوعی مہنگائی کے ذمہ دار ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور ہیں۔ طلب میں متوقع اضافے کو بنیاد بنا کر بعض عناصر مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں‘ سپلائی کم کر دیتے ہیں اور پھر بڑھتی ہوئی قیمتوں کو مارکیٹ ریٹ کا نام دے دیا جاتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ماہِ رمضان میں اشیائے خور و نوش کی عارضی قلت پیدا کر کے ان کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کیا جا رہا ہو۔ یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور چند نمائشی اقدامات سے انتظامیہ و حکومت مطمئن ہو رہتے ہیں۔ حکومت کو چند ماڈل بازاروں پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے عام مارکیٹوں میں بھی منافع خوری کا فی الفور نوٹس لینا اور انسدادِ گرانی کمیٹیوں کو فعال کر کے عام مارکیٹ میں بھی اشیا کی قیمتوں کو اعتدال میں رکھنا چاہیے تاکہ عوام ماہِ مقدس میں گرانی کی اضافی لہر سے محفوظ رہ سکیں۔