اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی کے محرکات

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے المناک واقعے میں سوموار کو گیارہ سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے جبکہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں بارہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ افغانستان کے ساتھ ملنے والی قبائلی پٹی کے علاقے دہشت گردی کے شدید خطرات کی زد پر ہیں۔ یہ اندوہناک واقعہ بھی باجوڑ کے علاقے میں پیش آیا۔ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں مارے جانے والے فتنہ الخوارج کے گماشتوں کی تعداد کو دیکھا جائے تو یہ بلاشبہ دہشت گردی کا ایک بڑا اور منظم منصوبہ معلوم ہوتا ہے جس مادرِ وطن کے گیارہ بہادر بیٹوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر ناکام بنایا۔ دہشت گردی کے خطرات میں مسلسل اضافہ باعث تشویش ہے۔ سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنے والے ایک ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس ملک میں دہشت گردی کے 699 حملے ہوئے جو 2024ء سے 34 فیصد زیادہ تھے۔ ان واقعات میں 1034 جانیں گئیں۔ دہشت گردی کے کل 699 واقعات میں سے 413 واقعات خیبر پختونخوا میں پیش آئے اور 254 بلوچستان میں۔

دہشت گردی کے واقعات میں گزشتہ برس ہونے والی 1034 میں سے 581اموات خیبر پختونخوا میں ہوئیں اور 419 بلوچستان میں۔ یہ اعداد وشمار دہشت گردی کے خطرات کا عکس پیش کرتے ہیں۔ ملک میں دہشت گردی کے محرکات بڑے واضح ہیں۔ دہشت گردی کے محرکین کے مقاصد بھی بڑی حد تک واضح ہیں۔ دہشت گردوں کا بنیادی مقصد پاکستان کو کمزور کرنا اور پاکستان کے ابھرتے ہوئے مثبت تشخص کو گہنانے کی حسد خوردہ ذہنیت ہے۔ پاکستان کی سرزمین پر ہشت گردی کے ہر واقعے کے ڈانڈے افغانستان سے ملتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کیلئے پاکستان کی قربانیاں شمار کرنا مشکل ہے‘ مگر ایک بار پھر جب اس ملک کو اپنی سمت درست کرنے کا موقع ملا تو افغانستان نے ہمسایہ ملک کی تمام نیکیوں کو نظر انداز کرنے میں دیر نہیں کی۔ ملک عزیز کو دہشت گردی کے خطرات سے نجات دلانے کیلئے کامیاب حکمت عملی تشکیل دینے کیلئے ان پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ہو گا۔

ہم ہمسایہ ملک کے قومی ’اوصاف‘ کو تبدیل نہیں کر سکتے؛ اس لیے شاید اس سوال کا جواب تلاش کرنا مشکل ہو کہ آخر افغانستان ایسا کیوں ہے کہ ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی اورتخریب کاری کیلئے یہ ہمیشہ دستیاب ہوئے ہیں۔ ہمارے لیے اہم یہ ہے کہ داخلی سطح پر خود کو اتنا مضبوط کیا جائے کہ باہر سے کسی کو دراندازی کی گنجائش ہی نہ ملے۔ سیاسی اور دیگر کئی طرح کے اختلافات میں الجھی قوم اسی لیے دشمن کی ناپاک منصوبہ بندی کا آسان ہدف بنتی ہے کیونکہ توجہات متفرق اور منتشر ہوتی ہیں اور قومی سمت کا تعین بار بار تبدیل ہوتا ہے۔ چند برس پہلے قبائلی علاقہ جات کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیلئے پاک فوج نے کئی بڑے آپریشن کیے اور قبائلی علاقوں میں حالات نارمل ہونا شروع ہوئے۔ اس عمل کی تکمیل ان علاقوں میں معاشی ترقی کے وسائل اور شہری سہولتوں کی فراہمی سے مشروط تھی۔

افسوس کی بات ہے کہ یہ ضروری کام نہیں ہو سکے۔ علاقے میں معاشی مسائل کے حل کیلئے کوئی بڑا قدم اٹھایاگیا نہ ہی صحت‘ تعلیم کی سہولتوں کیلئے کچھ کیا جا سکا۔ قبائل پٹی کے علاقوں میں روزگار‘ تعلیم اور دیگر سہولتوں میں نمایاں اضافے سے ان علاقوں کے عوام کی زندگیاں بدل دی جاتیں تو یہ علاقے افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے اندیشوں کو روکنے والی پہلی ڈھال ثابت ہوتے۔ اب بھی یہ کام کیا جا سکتا ہے۔ سرحدی علاقوں میں لوگوں کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کیلئے قومی سطح پر سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انتشار کے ماحول میں اغیار کی سازشوں کا صحیح تجزیہ کرنے اور قومی دفاع کی حکمت عملی طے کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف مضبوط دفاع قومی وحدت سے مشروط ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں