اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

موبائل فون کی درآمد

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران ملک میں ایک ارب 13کروڑ ڈالر مالیت کے موبائل فون درآمد کیے گئے جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ حجم 87کروڑ ڈالر کے لگ بھگ تھا۔ موبائل فون بلاشبہ آج کی ناگزیر ضرورت ہے مگر یہ کوئی ایسی پیچیدہ یا ناقابلِ حصول ٹیکنالوجی نہیں جسے مقامی سطح پر میں تیار نہ کیا جا سکے۔ پی ٹی اے کے مطابق مالی سال 2025ء میں ملک میں تین کروڑ سے زائد موبائل مقامی پلانٹس میں تیار یا اسمبل کیے گئے تھے۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک میں موبائل فونز کی اسمبلنگ کی استعداد موجود ہے مگر ویلیو ایڈیشن اور ہائی اینڈ سمارٹ فون مینوفیکچرنگ اب بھی محدود ہے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کی پانچویں بڑی کنزیومر مارکیٹ ہے۔

اتنی بڑی مارکیٹ رکھنے کے باوجود اگر ہم مقامی سطح پر موبائل فون تیار کرنے کے بجائے درآمدات پر انحصار کرتے رہیں تو یہ معاشی حکمتِ عملی کا فقدان ہو گا۔ حکومت موبائل فون کی مقامی تیاری کو اپنی صنعتی پالیسی کا لازمی حصہ بنائے۔ اس ضمن میں صرف اسمبلنگ تک محدود نہ رہا جائے بلکہ کمپوننٹس مینوفیکچرنگ‘ چِپ لیول ویلیو چین میں شمولیت‘ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور ہائی ٹیک زونز کے قیام کی طرف پیش قدمی کی جائے۔ اگر ہم اپنی وسیع کنزیومر مارکیٹ کو پیداواری صلاحیت میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو نہ صرف اربوں ڈالر کے زرِ مبادلہ کی بچت ممکن ہو گی بلکہ برآمدی امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں